ایس آئی آر کی مخالفت میں سرگرم ٹی ایم سی، بنگال اسمبلی میں قرار داد پیش کرنے کی تیاری
بہار میں راہل گاندھی کی ’ووٹر ادھیکار یاترا‘ میں امڈ رہی بھیڑ نے سیاست کو کافی گرم کر دیا ہے۔ ایس آئی آر کو لے کر ٹی ایم سی بھی حرکت میں آ گئی ہے اور اس نے این ڈی اے کے خلاف مورچہ کھول دیا ہے۔

بہار میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کو لے کر ملک کی سیاست ہنگامہ برپا ہے۔ الیکشن کمیشن کے اس عمل پر کافی تنازعہ ہو رہا ہے۔ کانگریس اور آر جے ڈی سمیت تمام اپوزیشن جماعتیں الیکشن کمیشن کو گھیر رہی ہیں اور اس پر مرکز کے ساتھ ملی بھگت کا الزام لگا رہی ہیں۔ بہار میں راہل گاندھی کی ’ووٹر ادھیکار یاترا‘ میں امڈ رہی بھیڑ نے اس سلسلے میں مزید سیاسی گرمی پیدا کر دی ہے۔ وہیں اب ایس آئی آر کو لے کر ترنمول کانگریس بھی حرکت میں آ گئی ہے اور اس نے این ڈی اے حکومت کے خلاف مورچہ کھول دیا ہے۔
’نو بھارت ٹائمز‘ کی خبر کے مطابق مغربی بنگال اسمبلی میں یکم سے چار ستمبر تک ایک خصوصی اجلاس ہوگا۔ اس اجلاس میں ریاستی حکومت بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں بنگالی بولنے والے مہاجر مزدوروں کے مبینہ استحصال اور الیکشن کمیشن کے ذریعہ ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) پر مذمتی تحریک لا سکتی ہے۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے مہاجر مزدوروں کو مغربی بنگال واپس ہونے اور ’شرم شری‘ منصوبہ کا فائدہ اٹھانے کے لیے کہا ہے۔ اس منصوبہ کے تحت انہیں مالی امداد دی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق اسمبلی میں ترنمول کانگریس ایس آئی آر کی مخالفت کرتے ہوئے اس کے خلاف قرار داد پیش کرے گی۔ کئی جانکاروں کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن مغربی بنگال میں بھی اسمبلی انتخاب سے پہلے ایس آئی آر کروا سکتا ہے۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق ’انڈیا‘ اتحاد میں شامل ٹی ایم سی بہار میں راہل گاندھی کی ’’ووٹر ادھیکار یاترا‘‘ کے آخری مرحلے میں پیر کو حصہ لے کر اپنی پارٹی کی نمائندگی کریں گے۔
واضح رہے کہ مغربی بنگال میں مئی 2026 میں اسمبلی انتخاب ہوں گے۔ اسی کے ساتھ کیرالہ، آسام اور تمل ناڈو میں بھی اسمبلی انتخاب ہونے والے ہیں۔ آسام میں خصوصی گہری نظرثانی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ باقی ریاستوں میں بھی یہ جلد شروع ہو سکتا ہے۔ تمل ناڈو کے ڈی ایم کے رہنما اور وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن بہار پہنچ کر ایس آئی آر کی مخالفت کر چکے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔