تہاڑ جیل: کورونا وائرس کی رعایت ختم، قیدیوں کو خودسپردگی کا حکم

بنچ نے دہلی حکومت کے مستقل وکیل راہل مہرا کی دلیل سے اتفاق نہ کرتے ہوئے کہا، ’’جیلوں میں کووڈ-19 کا کوئی زیادہ پھیلاؤ نہیں ہوا اور تقریباً 16000 قیدیوں میں سے تین قیدی متاثر پائے گئے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کے روز کووڈ-19 کے تحت دی گئی رعایت کو ختم کرتے ہوئے عبوری ضمانت پر رہا ہونے والے 2318 قیدیوں کو دو سے 13 نومبر تک مرحلہ وار تہاڑ جیل میں خودسپردگی کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے گزشتہ 25 مارچ کے اپنے حکم کو آج واپس لے لیا ہے جس کے تحت کورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے عبوری ضمانت اور پیرول کی مدت میں وقت وقت پر اضافہ کیا گیا تھا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ سبھی قیدیوں کی مجموعی تعداد تقریباً 10000 ہے اور آج کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے جیلوں کے اندر 15900 قیدی ہیں۔

اس کے علاوہ ضلع عدالتوں کے ذریعہ گھناؤنے جرائم میں شامل 2318 مجرمان کو عبوری ضمانت دی گئی تھی، جو وقت وقت پر 25 مارچ کے احکام اور بعد میں اس عدالت کے ذریعہ دیئے گئے احکامات کے بعد بڑھا دی گئی ہیں۔اس کے علاوہ بااختیارکمیٹی کی سفارشات کے مطابق جرائم میں شامل 2907 مجرموں کو ضمانت دی گئی اور 356 قیدیوں کو دہلی ہائی کورٹ نےعبوری ضمانت دے دی۔

چیف جسٹس سدھارتھ مردل اور جج تلونت سنگھ کی بنچ نے سماعت کے بعد اس کا حکم جاری کیا۔ بنچ نے دہلی حکومت کے مستقل وکیل راہل مہرا کی دلیل سے اتفاق نہ کرتے ہوئے کہا، ’’جیلوں میں کووڈ-19 کا کوئی زیادہ پھیلاؤ نہیں ہوا اور تقریباً 16000 قیدیوں میں سے تین قیدی متاثر پائے گئے، کورونا سے متاثر تینوں قیدیوں کو الگ الگ اسپتالوں میں داخل بھی کرایا گیا ہے۔ لہذا ہم 25 مارچ 2020 کو دیئے گئے اپنے حکم میں ترمیم کرنا مناسب سمجھتے ہیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔