’یہ تو متوقع ہی تھا‘، سی بی آئی کی تحقیقات میں اروناچل پردیش کے سی ایم پیما کھانڈو کے تعاون نہ کرنے پر کانگریس کا ردعمل

رمیش نے کہا کہ ’’پی ڈبلیو ڈی کے وزیر خود وزیر اعلیٰ ہی ہیں۔ اس کے باوجود وہ اپنے عہدے پر برقرار ہیں، جو عوامی زندگی میں جواب دہی اور دیانت داری کے حوالے سے پی ایم کے کھوکھلے دعووں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>پیما کھنڈو، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

سپریم کورٹ نے پیر کو اروناچل پردیش کے چیف سکریٹری اور پرنسپل سکریٹری (داخلہ) سے جواب طلب کیا ہے۔ یہ قدم سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے اس الزام کے بعد اٹھایا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ وزیر اعلیٰ پیما کھانڈو کے خلاف تحقیقات میں ریاستی حکومت تعاون نہیں کر رہی ہے۔ اس پر کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’یہ تو متوقع ہی تھا۔ 6 اپریل 2026 کو سپریم کورٹ نے ازخود اروناچل پردیش کے پی ڈبلیو ڈی کے ان ٹھیکوں کی سی بی آئی جانچ کا حکم دیا تھا جو محکمۂ تعمیرات عامہ کے وزیر نے اپنے اہل خانہ کو دیے تھے۔‘‘

اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں کانگریس لیڈر نے مزید لکھا کہ ’’اروناچل پردیش میں محکمۂ تعمیرات عامہ کے وزیر خود وزیر اعلیٰ ہی ہیں۔ اس کے باوجود وہ بدستور اپنے عہدے پر برقرار ہیں، جو عوامی زندگی میں جواب دہی اور دیانت داری کے حوالے سے وزیر اعظم کے کھوکھلے دعووں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ دراصل جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ سی بی آئی کی جانب سے داخل اسٹیٹس رپورٹ پر غور کر رہی تھی۔ یہ رپورٹ عدالت کے اپریل میں جاری کیے گئے اس حکم کے بعد داخل کی گئی تھی جس میں پیما کھانڈو سے متعلق پبلک ورکس کنٹریکٹس کی الاٹمنٹ میں جانبداری کے الزامات کی تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا۔


رپورٹ دیکھنے کے بعد عدالت نے پایا کہ تحقیقاتی ایجنسی نے ریاستی حکومت سے ریکارڈ حاصل کرنے میں آ رہی دقتوں کا ذکر کیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ ’’سی بی آئی کی جانب سے 17 جولائی کو اسٹیٹس رپورٹ داخل کی گئی تھی۔ اسے دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ ریکارڈ دستیاب کرانے کے معاملے میں ریاستی حکومت تعاون نہیں کر رہی ہے۔ اس لیے چیف سکریٹری اور پرنسپل سکریٹری (داخلہ) کو نوٹس جاری کرنا مناسب ہے۔‘‘

واضح رہے کہ اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ پیما کھانڈو کے اہل خانہ اور رشتہ داروں کی کمپنیوں پر سرکاری ٹھیکے غیر قانونی طور پر دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ نے 6 اپریل کو حکم جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ 1270 کروڑ روپے کے سرکاری ٹھیکے غیرقانونی طور پر دیے گئے۔ عدالت نے اس معاملے میں سی بی آئی سے اس کی ابتدائی جانچ کرانے کو کہا تھا۔ سپریم کورٹ نے سی بی آئی کو 2 ہفتے کے اندر ابتدائی جانچ درج کرنے اور 16 ہفتے کے اندر اپنی اسٹیٹس رپورٹ سونپنے کی ہدایت دی تھی۔


آج مرکزی ایجنسی نے اپنی رپورٹ کورٹ کو سونپ دی ہے۔ سی بی آئی کے ذریعہ یہ تحیققات یکم جنوری 2015 سے 31 دسمبر 2025 کے درمیان الاٹ کیے گئے پبلک ورکس کے کنٹریکٹس اور ورک آرڈر کی مدت کے دوران کی جا رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے سی بی آئی تحقیقات کا حکم ’سیو مون ریجن فیڈریشن‘ نام کے این جی او کے ذریعہ دائر کردہ مفاد عامہ کی عرضی پر دیا ہے، جس میں بدعنوانی اور اقربا پروری کے الزام عائد کیے گئے تھے۔