اس بار عام لوگوں کی رسائی سے دور رہے گا ’آم‘، خواص ہی ہوں گے لطف اندوز!

ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اتر پردیش میں ہر سال 4.5 کروڑ ٹن آم کی پیداوار ہوتا ہے، اس میں رواں سال اب تک 80 فیصد کمی درج کی گئی ہے۔

آم، تصویر آئی اے این ایس
آم، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

آم پھلوں کا راجہ ہے، اور یہ راجہ امیر و غریب کے گھر بہ آسانی پہنچنے کی خوبی رکھتا ہے۔ لیکن اس مرتبہ ایسا لگ رہا ہے جیسے گزشتہ سالوں کی طرح عوام تک اس آم کی رسائی کم ہی ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شدید گرمی نے آم کی زراعت کو بھی بری طرح اثر انداز کیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آم کی قیمت ابھی سے بڑھی ہوئی ہے اور آسمان چھوتی مہنگائی میں قیمت کم ہونے کی بات تو چھوڑیے، مزید بڑھنے کا ہی اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ یعنی رواں سال خواص یعنی امیر لوگ ہی آم کا مزہ کھل کر لے پائیں گے، متوسط طبقہ بھی کچھ حد تک آم کا لطف لے پائے گا۔

ایک رپورٹ کے مطابق آم کی قیمت مارکیٹ میں ابھی 100 روپے کلو سے اوپر ہے۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ ایسا کوئی امکان نہیں کہ اس قیمت میں کمی ہو۔ وجہ یہ ہے کہ آم کی پیداوار کرنے والی سرفہرست ریاست اتر پردیش میں 80 فیصد آم کی فصل متاثر ہوئی ہے۔ ایسا اندازہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس سال آم کی پیداوار دو دہائیوں میں سب سے کم رہے گی، اور اگر واقعی ایسا ہوا تو آم کی قیمتیں کم ہونا تو چھوڑیے، کچھ دنوں کے بعد بڑھنا شروع ہو جائیں گی۔


ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اتر پردیش میں ہر سال 4.5 کروڑ ٹن آم کی پیداوار ہوتی ہے۔ اس میں رواں سال اب تک 80 فیصد کمی درج کی گئی ہے۔ یہاں یہ بات بھی غور کرنے والی ہے کہ ملک کی کل پیداوار کا 23.47 فیصد حصہ داری اتر پردیش کی رہتی ہے۔ اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آم کا رخ امیر لوگوں کے گھروں کی طرف ہی زیادہ ہوگا۔ ہاں، یہ ضرور ہے کہ غریب لوگ اس کا نظارہ پھل فروشوں کے پاس جا کر کر سکیں گے، لیکن وہاں سے آم اپنے گھر لانے یا پھر اپنے مہمانوں کی دسترخوان پر اس کو سجانے کی ہمت کم ہی کر پائیں گے۔

مینگو گرووَرس ایسو سی ایشن آف انڈیا کے صدر ایس. انسرام کا آم کی پیداوار کے تعلق سے کہنا ہے کہ گرمی اور لو کی وجہ سے آم پر منفی اثر ہوا ہے۔ آم کے لیے 27 ڈگری سنٹی گریڈ درجہ حرارت سب سے بہتر مانا جاتا ہے، لیکن اس بار گرمی بہت زیادہ تھی جس کا نقصان آم کی فصل پر پڑا ہے۔ چونکہ گرمی نے یوپی اور بہار سمیت کئی ریاستوں کو پریشان کیا ہے، اس لیے آم پر اس کا اثر پڑنا لازمی تھا۔ اب تو بس انہی ریاستوں سے زیادہ امیدیں ہیں جہاں آم کی فصل اچھی ہوئی ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ گجرات، آندھرا پردیش اور تمل ناڈو جیسی ریاستیں اس معاملے میں کچھ اچھی خبر سنائیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔