دیوبند: ظلم و ستم برداشت کرلیں گے لیکن ملک پر آنچ نہیں آنے دیں گے، جمعیۃ کے اجلاس سے محمود مدنی کا پیغام

محمود مدنی نے کہ ہم ہر چیز برداشت کر سکتے ہیں لیکن وطن عزیز کی سلامتی کے خلاف اٹھایا گیا قدم ہمیں برداشت نہیں ہوگا۔ ظلم برداشت کرنا، گالیاں کھانا، بے عزت ہونا اور پھر بھی خاموش رہنا کوئی ہم سے سیکھے۔

دیوبند اجلاس سے خطاب کرتے مولانا محمود مدنی / ویڈیو گریب
دیوبند اجلاس سے خطاب کرتے مولانا محمود مدنی / ویڈیو گریب
user

عمران خان

دیوبند: جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے دارالعلوم کی سرزمین دیوبند پر آج یعنی 28 مئی سے دو روزہ اجلاس کا آغاز ہوگیا۔ اجلاس میں ملک بھر سے مختلف تنظیموں کے نمائندے شرکت کے لیے پہنچے ہیں۔ اجلاس کے پہلے دن علماء نے کہا کہ مسلمان ہر ظلم برداشت کر لے گا، لیکن ملک کا نام خراب نہیں ہونے دے گا۔ دریں اثنا، مثبت پیغام دینے کے لئے جمعیۃ کی جانب سے ملک بھر میں ایک ہزار خیر سگالی کانفرس منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ محمود اسعد مدنی نے کہا کہ بے عزت ہو کر خاموش ہو جانا کوئی مسلمانوں سے سیکھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تکلیف برداشت کرلیں گے، مصیبت برداشت کریں گے لیکن ملک کا نام خراب نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جمعیۃ علماء ہند امن کو فروغ دینے اور درد، نفرت کو برداشت کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو یہ ہماری کمزوری نہیں، ہماری طاقت ہے۔


محمود اسد مدنی نے اپنے خطاب کا آغاز حالات حاضرہ پر شاعری کے ساتھ کیا اور اس دوران وہ جذباتی بھی ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے ہی ملک میں اجنبی بنا دیا گیا۔ محمود اسد مدنی نے اکھنڈ (متحد) بھارت کی بات کرنے والوں پر بھی شنانہ لگاتے ہوئے کہا کہ آپ کس متحدہ ہندوستان کی بات کرتے ہیں؟ آج مسلمانوں کا چلنا پھرنا مشکل ہو گیا ہے۔ یہ صبر کا امتحان ہے۔

دیوبند: ظلم و ستم برداشت کرلیں گے لیکن ملک پر آنچ نہیں آنے دیں گے، جمعیۃ کے اجلاس سے محمود مدنی کا پیغام

دریں اثنا، جمعیۃ کے سابق صدر مولانا عثمان منصور پوری کو یاد کرتے ہوئے محمود مدنی نے یہ اشعار پڑھے۔ ’’جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی، جہاں نغمے ہی نغمے تھے، وہ گلشن اور وہ یاران غزل خواں یاد آتے ہیں۔ دل اپنا الجھا الجھا ہے، طبیعت بکھری بکھری ہے، نہ جانے کس کے گیسوئے پریشاں یاد آتے ہیں۔ کبھی دن کو لہو کی نقش کاری یاد آتی ہے، کبھی راتوں کو زخموں کے چراغاں یاد آتے ہیں۔ بہاریں، سیر گاہیں، چاندنی راتیں، ملاقاتیں، ہمیں اب تک یہی خواب پریشاں یاد آتے ہیں۔ بھرا رہتا تھا گھر جن سے، وہ یاد آتے ہیں گھر والے، جو گھر کو کر گئے خالی وہ مہماں یاد آتے ہیں۔‘‘


محمود مدنی نے کہا کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ ان حالات میں ہم آرام سے ہیں، یہ ان کا دل جانتا ہے کہ ان کو کیا مشکل درپیش ہے، کسی کو کیا سمجھ میں آئے گا کیونکہ مشکل کو برداشت کرنے کے لئے حوصلہ چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کمزور ضرور ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ امن کے خلاف کوئی اقدام کیا جائے۔ ہمارا ایمان ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں مایوس نہیں ہونا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’اس بات کو سمجھ لیجئے کہ اس ملک میں اکثریت ان لوگوں کی نہیں ہے جو نفرت کے کھلاڑی ہیں، اگر ہم نے ان کے لب و لہجہ میں جواب دیا تو وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ملک کی خاموش اکثریت آج بھی اس بات کو اچھی طرح سمجھتی ہے کہ نفرت کے بازار میں نفرت کی دکان کھولنے والے لوگ ملک دشمن اور غدار ہیں۔ لہذا نفرت کا جواب کبھی نفرت نہیں ہو سکتا، کیونکہ آگ کو آگ سے کبھی بجھایا نہیں جا سکتا بلکہ آگ کو پانی سے بجھایا جا سکتا ہے۔‘‘


محمود مدنی نے مزید کہا کہ ’’ہم ہر چیز برداشت کر سکتے ہیں لیکن وطن عزیز کی سلامتی کے خلاف اٹھایا گیا قدم ہمیں برداشت نہیں ہوگا۔ ظلم برداشت کر لینا، گالیاں کھا لینا، بے عزت ہونا اور اس کے بعد بھی خاموش رہنا کوئی ہم سے سیکھے۔ ترکی بہ ترکی جواب دینا آسان ہے لیکن مسلمان ایسا نہیں کریں گے۔‘‘ انہوں نے کہا ’’ہمیں ہمارے ہی ملک میں اجنبی بنا دیا گیا۔ بات تو اکھنڈ بھارت بنانے کی کرتے ہیں لیکن مسلمانوں کا چلنا پھرنا بھی دشوار بنا دیا گیا ہے۔ میں ان لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ ملک کے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں۔‘‘

قبل ازیں، اجلاس کے دوران اسلامو فوبیا کے حوالے سے بھی ایک قرارداد پیش کی گئی۔ اس قرارداد میں اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے واقعات اور مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی کا ذکر کیا گیا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ 'اسلامو فوبیا' صرف مذہب کے نام پر دشمنی نہیں بلکہ اسلام کے خلاف خوف اور نفرت کو دل و دماغ پر حاوی کرنے کی مہم ہے۔ یہ انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کے خلاف ایک کوشش ہے۔ جس کی وجہ سے آج ملک کو مذہبی، سماجی اور سیاسی انتہا پسندی کا سامنا ہے۔


تازہ ترین صورتحال کو سنگین قرار دیتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند نے کہا ہے کہ اس نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک الگ محکمہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ جمعیۃ نے کہا ہے کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہم نے 'انڈین مسلمانوں کے لیے انصاف اور بااختیارانہ اقدام' کے نام سے ایک شعبہ بنایا ہے۔ اس کا مقصد ناانصافی اور ظلم کو روکنے، امن اور انصاف کو برقرار رکھنے کے لیے حکمت عملی تیار کرنا ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے اجلاس میں علماء نے کہا کہ یہ لڑائی صرف محکمہ بنا کر نہیں جیتی جا سکتی۔ اس کے لیے ہر سطح پر کوشش کی ضرورت ہے۔ قبل ازیں مولانا نیاز فاروقی نے کہا کہ جلوس میں گیان واپی، متھرا، قطب مینار جیسے تمام مسائل کے ساتھ ساتھ مدارس میں جدید تعلیم کے بارے میں بات چیت ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدالتوں میں چلنے والے مقدمات کی بھرپور وکالت کی جائے گی۔ خیال رہے کہ جمعیۃ علماء ہند کا یہ اجلاس تین نشستوں پر مشتمل ہے۔ پہلی دو نشستیں ہفتہ اور تیسری نشست اتوار کے روز منعقد ہوگی۔ تیسری نشست میں جمعیۃ کی جانب سے متعدد قراردادیں پیش کی جائیں گی۔ جمعیۃ کے اس اجلاس کا خاکہ 15 مارچ کو دہلی میں منعقدہ ایک پروگرام میں طے کیا گیا۔


مولانا محمود مدنی کی صدارت میں منعقد ہو رہے اس اجلاس میں میں تقریباً 5000 علمائے کرام اور مسلم دانشوروں کی شرکت کی توقع کی گئی ہے۔ اس دو روزہ اجلاس کا مقصد موجودہ دور میں ملک کے مسلمانوں کے سماجی، سیاسی، مذہبی حالات پر حکمت عملی بنانے کے ساتھ گیان واپی مسجد اور متھرا کی شاہی عیدگاہ کے حوالے سے جاری تنازعہ پر غور و خوض کرنا ہے۔ اجلاس میں ملک بھر سے آنے والے علمائے کرام اور مسلم دانشوروں کی سیکورٹی کے لیے سہارنپور انتظامیہ کی جانب سے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ اجلاس کے مقام پر بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔