’یہ نفرت کا انجام ہے‘، اتراکھنڈ میں معصوم کشمیری لڑکے کی سلاخوں سے پٹائی پر کانگریس کا سخت رد عمل

کانگریس کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت کو قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے، مجرموں کو جوابدہ ٹھہرانا چاہیے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنا چاہیے۔

<div class="paragraphs"><p>زخمی کشمیری لڑکا تابش، تصویر&nbsp;<a href="https://x.com/INCIndia">@INCIndia</a></p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

اتراکھنڈ میں ایک معصوم کشمیری نوجوان کی پٹائی کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ اس تعلق سے کانگریس نے ریاست کی بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس نے اسے ’نفرت کا انجام‘ قرار دیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی سماج کو تقسیم کر رہی ہے، جس کی وجہ سے ایسے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ کانگریس نے اس تعلق سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ جاری کی ہے، جس میں لکھا ہے کہ ’’17 سالہ کشمیری لڑکے تابش احمد کو اتراکھنڈ میں لوہے کی سلاخوں سے بے رحمی سے پیٹا گیا۔ اس کا واحد ’قصور‘ یہ تھا کہ وہ کشمیر سے تھا۔ وہ روزی کمانے کے لیے کشمیری شالیں فروخت کر رہا تھا۔‘‘

یہ تبصرہ کرنے کے بعد کانگریس نے ماضی میں مودی حکومت کی نفرت پر مبنی سیاست کا اشاروں اشاروں میں ذکر کیا ہے۔ پارٹی نے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’2014 کے بعد سے ایسے واقعات روز بہ روز بڑھتے جا رہے ہیں، کیونکہ وزیر اعظم مودی اقتدار میں رہنے کے لیے سماج کو تقسیم کرنے پر انحصار کر رہے ہیں۔‘‘ آگے لکھا گیا ہے کہ ’’ملک میں نفرت کا یہی انجام ہوتا ہے۔ یہ اس سیاست کا نتیجہ ہے جو اتحاد کے بجائے خوف اور تقسیم پھیلاتا ہے۔‘‘


کانگریس نے موجودہ حالات پر فکر ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ایسے واقعات اب کبھی کبھی نہیں ہو رہے، بلکہ یہ بار بار ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں، جہاں سیاسی فائدے کے لیے لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے اور ایک دوسرے کے خلاف بھڑکایا جا رہا ہے۔ ہمارے ملک کا سماجی تانا بانا بکھرتا جا رہا ہے۔‘‘ تابش کی ہوئی پٹائی پر اپنی فکر ظاہر کرتے ہوئے کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’ایک وقت تھا جب پورے ہندوستان میں لوگ ہمارے کشمیری بھائیوں کے شالیں لے کر آنے کا انتظار کرتے تھے، انہیں گرمجوشی سے خوش آمدید کہتے تھے اور دعاؤں و مسکراہٹوں کا تبادلہ کرتے تھے۔ وہ دن اب جیسے ماند پڑتے جا رہے ہیں۔‘‘

کانگریس نے اس سوشل میڈیا پوسٹ میں کچھ سوالات بھی قائم کیے ہیں، جو خود سے پوچھے گئے ہیں۔ کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’ہمیں خود سے سوال کرنا چاہیے کہ ہم ایک قوم کے طور پر کس سمت جا رہے ہیں؟ ہمیں اپنے ہی بھائی بہنوں سے ان کے مذہب یا علاقے کی بنیاد پر نفرت کرنا کیوں سکھایا جا رہا ہے؟‘‘ کانگریس کہتی ہے کہ یہ وہ ہندوستان نہیں ہے جس پر یقین رکھتے ہوئے ہم بڑے ہوئے تھے۔ ہندوستانیوں کی حیثیت سے ہمیں رک کر سوچنا ہوگا، غور کرنا ہوگا اور نفرت کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے! تابش کے قصورواروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کانگریس نے کیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت کو قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے، مجرموں کو جوابدہ ٹھہرانا چاہیے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنا چاہیے۔