’یہ نریندر کا یکطرفہ سرینڈر ہے‘، امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ پر کانگریس کا تلخ رد عمل
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں کانگریس نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہوئے تجارتی معاہدہ کو ہندوستانی کسانوں کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔

’’ٹریڈ ڈیل میں نریندر مودی نے کسانوں کو خوشحال بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ لیکن وہ کسان امریکہ کے ہیں۔‘‘ یہ تلخ تبصرہ کانگریس نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان طے پائے تجارتی معاہدہ پر کیا ہے۔ کانگریس نے اس معاہدہ کو ہندوستان اور ہندوستانی کسانوں کے لیے زبردست خسارے والا بتایا ہے۔ اس کے نقصانات کا ذکر پارٹی لیڈران تو میڈیا سے بات کرتے ہوئے کر ہی رہے ہیں، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی پارٹی ٹیکسٹ اور ویڈیوز کی شکل میں اپنی بات رکھ رہی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں کانگریس نے امریکہ سے تجارتی معاہدہ کو ہندوستانی کسانوں کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ اس تعلق سے ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں وزیر اعظم مودی کو ہدف تنقید بنایا گیا ہے۔ ویڈیو کے بیک گراؤنڈ سے آواز آ رہی ہے کہ ’’وزیر اعظم نریندر مودی اپنے ’ڈیئر فرینڈ‘ ٹرمپ سے ٹریڈ ڈیل کرنے کا ڈھنڈھورا پیٹ رہے ہیں۔ مگر یہ کوئی 2 فریقی معاہدہ نہیں، بلکہ نریندر کا یکطرفہ ’سرینڈر‘ ہے۔‘‘ ویڈیو میں آگے کہا گیا ہے کہ ’’آئیے سمجھتے ہیں کس طرح مودی نے امریکہ کے ساتھ خسارے کا سودا کیا ہے۔ گزشتہ سال تک امریکہ ہندوستانی سامانوں پر 2 سے 3 فیصد ٹیرف لگاتا تھا۔ اب مودی نے جو تجارتی معاہدہ کیا ہے، اس میں ہندوستان کے سامان پر امریکہ 18 فیصد ٹیرف لگائے گا۔ دوسری طرف بدلے میں ہندوستان امریکی سامانوں پر ٹیرف اور نان ٹیرف بیریئر 0 فیصد تک گھٹائے گا۔‘‘
ویڈیو میں ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کے اس ضابطہ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے تحت امریکی زرعی مصنوعات ہندوستانی بازار میں بہ آسانی پہنچائے جائیں گے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ’’ہندوستان نے اپنا بازار امریکی زرعی مصنوعیات کے لیے کھول دیا ہے۔ اس سے ہندوستانی کسانوں کا زبردست نقصان ہوگا۔ مجموعی طور پر یہ معاہدہ ہندوستان کے لیے بڑے خسارے کا ثابت ہوگا، اس کا خمیازہ ہمارے کسانوں، تاجروں اور ملک کی عوام کو بھگتنا پڑے گا۔ لیکن نریندر مودی کو اس کی کوئی فکر ہی نہیں ہے۔‘‘
مزید ایک ویڈیو ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کی گئی ہے، جس میں کیپشن لگایا گیا ہے ’مودی نے امریکہ کی ٹریڈ ڈیل میں ہمارے کسانوں کی خوشیاں فروخت کر دیں۔‘ اس ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ ’’نریندر مودی کے ’مائی فرینڈ ڈونالڈ نے جنگ بندی کی طرح ٹریڈ ڈیل کا اعلان بھی خود ہی کر دی۔ کہا کہ مودی کی گزارش پر تجارتی معاہدہ کیا جا رہا ہے۔ بتایا کہ امریکہ کے اوپر ہندوستان ٹیرف اور نان ٹیرف بیریئر 0 فیصد تک گھٹائے گا۔‘‘ ویڈیو میں ایک اینکر یہ بھی کہہ رہا ہے کہ ’’مودی روس سے تیل نہیں خریدیں گے۔ تیل کی خریداری امریکہ اور وینزویلا سے ہوگی۔ لیکن سب سے زیادہ حیران کرنے والی بات زراعت سے متعلق آئی۔ ٹرمپ حکومت کی وزیر زراعت بروک رولنگز نے کہا کہ اب امریکہ کے کسانوں کے پروڈکٹ ہندوستان کے بازار میں فروخت ہوں گے۔ اس سے امریکہ کے دیہی علاقوں میں پیسہ آئے گا۔ امریکہ کے کسانوں کے لیے ہندوستان کا بازار بے حد ضروری ہے۔‘‘
اس تجارتی معاہدہ پر سوال اٹھاتے ہوئے ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ ’’ٹرمپ نے اس معاہدہ سے امریکہ کے کسانوں کا فائدہ کرایا ہے۔ یہ سب باتیں ’امریکہ‘ کے لیے ٹھیک ہیں۔ لیکن ہندوستان کا کیا؟ زرعی معاملوں میں اہمیت کے حامل ملک کے کسانوں کا کیا؟ آپ سمجھ لیں کہ ہمارے کسانوں کو اب اپنے ہی ملک میں امریکہ کے کسانوں کے ساتھ مقابلہ آرائی کرنی پڑے گی۔ یہ کیسا معاہدہ ہے، کہاں کا انصاف ہے؟‘‘ ویڈیو کے آخر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’صاف نظر آ رہا ہے، اس معاہدہ سے ہندوستان کے کسانوں کا نقصان ہوگا۔ ٹریڈ ڈیل کا تو پتہ نہیں، لیکن نریندر مودی نے کسانوں کے مفادات کا سودا ضرور کر لیا ہے۔‘‘