’یہ ہے بی جے پی کا زہریلا ماڈل‘، گریٹر نوئیڈا میں آلودہ پانی سے 30 لوگوں کے بیمار پڑنے پر کانگریس حملہ آور

کانگریس کا کہنا ہے کہ ایک طرف اندور میں گندہ پانی پینے سے 20 لوگوں کی موت ہو گئی، وہیں گریٹر نوئیڈا میں آلودہ پانی سے زائد از 30 لوگ بیمار ہیں۔ بی جے پی حکومت میں عوام صاف پانی کے لیے ترس رہی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>گرافکس ’ایکس‘ @INCIndia</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

بی جے پی حکمراں مدھیہ پردیش کے اندور میں آلودہ پانی پینے کی وجہ سے ہوئیں اموات کے بعد کچھ دیگر ریاستوں میں بھی پینے کے گندہ پانی سے اموات اور بیماری کی خبریں سرخیاں بن رہی ہیں۔ تازہ معاملہ گریٹر نوئیڈا کا ہے، جہاں گندہ پانی پینے سے کم از کم 30 لوگ بیمار پڑ گئے ہیں۔ یہ خبر سامنے آنے کے بعد کانگریس نے بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’بی جے پی کا زہریلا ماڈل‘ قرار دیا ہے۔

کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر ’ٹائمس ناؤ-نوبھارت‘ کی ایک رپورٹ کی ویڈیو شیئر کی ہے، جس میں گریٹر نوئیڈا میں آلودہ پانی سے بیمار لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈیلٹا-1 میں سیور کا گندہ پانی گھروں پہنچ رہا ہے۔ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ سپلائی والے پانی میں گندہ پانی مل جانے اور پھر اسے پینے سے کئی لوگ بیمار ہو گئے ہیں۔ کئی لوگ پیٹ میں انفیکشن کی شکایت کر رہے ہیں۔ یہ بھی جانکاری دی گئی ہے کہ انتظامیہ کے افسران نے پانی کا نمونہ لے کر جانچ کے لیے بھیج دیا ہے۔ علاوہ ازیں اے سی ای او نے سبھی جگہوں کے پانی کی رینڈم جانچ کرنے کی ہدایت دے دی ہے۔


اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’بی جے پی کا ’زہریلا ماڈل‘۔ ایک طرف جہاں اندور میں گندہ پانی پینے کی وجہ سے 20 لوگوں کی موت ہو گئی، وہیں اب گریٹر نوئیڈا میں آلودہ پانی پینے سے زائد 30 لوگ بیمار ہیں۔‘‘ سوشل میڈیا پوسٹ میں مزید لکھا گیا ہے کہ ’’اسی طرح گجرات کے گاندھی نگر میں ایک بچی کی موت ہو گئی اور سینکڑوں لوگ اسپتال میں زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔‘‘ بی جے پی حکمراں ریاستوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ ’’بی جے پی راج میں عوام صاف پانی کے لیے ترس رہی ہے، لیکن بے شرم حکومت ذمہ داری سے پلہ جھاڑنے میں مصروف ہے۔‘‘