شیوپال کے احترام میں کسی طرح کی کمی نہیں ہوگی: اکھلیش

انتخابی اتحاد کے ایک سوال پر اکھلیش یادو نے کہا کہ ’’'سماج وادی پارٹی نے لگاتار کوششیں کی ہیں۔ علاقائی اور چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد قائم ہو۔ اس میں کئی پارٹیاں سماج وادی پارٹی کے ساتھ آئی ہیں۔‘‘

اکھلیش یادو، شیوپال یادو، تصویر آئی اے این ایس
اکھلیش یادو، شیوپال یادو، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

اٹاوہ: سماجوادی پارٹی (ایس پی) سربراہ اکھلیش یادو نے اپنے چچا و پرگتی شیل سماج وادی پارٹی سربراہ شیوپال سنگھ یادو کو دیوالی کا بڑا تحفہ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ چچا کو پہلے کے مقابلے زیادہ سے زیادہ احترام دے کر ان کی پارٹی سے اتحاد کیا جائے گا۔

اپنے آبائی گاؤں سیفئی کے پی ڈبلیو ڈی ڈیپارٹمنٹ کے گیسٹ ہاوس میں پارٹی کارکنوں سے دیوالی کے موقع پرمل کر مبارک باد دینے کے بعد میڈیا نمائندوں سے بات چیت میں کہا کہ 'نیتا جی کی یوم پیدائش تو بعد میں آئے گا ہم تو آج ہی بول دے رہے ہیں چچا کا پورا احترام کیا جائے گا'۔


انتخابی اتحاد کے ایک سوال پر اکھلیش نے کہا 'سماج وادی پارٹی نے لگاتار کوششیں کی ہیں۔ علاقائی اور چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد قائم ہو۔ اس میں کئی پارٹیاں سماج وادی پارٹی کے ساتھ آئی ہیں۔ اوم پرکاس راج بھر نے ایک تاریخی بڑا پروگرام کیا ہے۔ سماجوادی پارٹی کی کوشش ہے کہ جتنی بھی پارٹیاں ہیں ان کو جوڑا جائے اور خوش قسمتی سے چچا کی بھی ایک پارٹی ہے۔ اس پارٹی کو بھی ساتھ لانے کا کام کریں گے۔ پورا احترام ہوگا۔ ان کی زیادہ سے زیادہ تکریم کی جائے گی۔ یہ میرا بھروسہ ہے'۔

ایس پی سربراہ نے کہا کہ 'ابھی ہم چھوٹی پارٹیوں سے جس طرح سے اتحاد کر رہے ہیں۔ اسی طرح سے ان کو ساتھ لاکر اتحاد کریں گے۔ انہوں نے کہا ہم دیوالی منا رہے ہیں وہیں غور کرنا پڑے گا۔ آج بھی غریب غریبی کی وجہ سے پیٹ بھر کھانہ نہیں کھا پا رہا ہے جس سے جوش اور خوشی کے ساتھ تیوہار منانا چاہ رہا ہے لیکن وہ مہنگائی کی وجہ سے تیوہار نہیں منا پا رہا ہے۔


کسان بحران میں جی رہا ہے۔ ہندوستان کا کسان بحران میں جائے تو ہماری معیشت کہاں ہوگی۔ آج اترپردیش میں کھاد کسانوں کو نہیں مل پارہی ہے۔ کئی کسان لائن میں لگ کر جان دے چکے ہیں۔ کچھ کسانوں نے تو پھانسی لگا لی ہے۔ حکومت اپنی ذمہ داری نہیں نبھا پارہی ہے۔ جس طرح سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ عوام دکھی ہیں۔ آنے والے وقت میں بی جےپی کا صفایا یقینی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اترپردیش کے عوام ترقی چاہتے ہیں حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ حکومت وہ کام کرے جو خوشحالی لائے، یہ ضلع اٹاوہ وہی ہے جہاں تاریخی کام سماج وادی حکومت میں کئے گئے تھے۔ آج کھیت میں دھان کی فصل کھڑی ہے۔ دھان کی قیمت کہاں ملے گی۔ یہ حکومت نہیں بتا پا رہی ہے۔ کسان کو مجبوراً دھان فروخت کرنا پڑ رہا ہے۔ بجلی مہنگی ہوگئی ہے کھاد دستیاب نہیں ہے۔


جناح کے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بی جے پی صرف نفرت کی سیاست کرتی ہے۔ وہ انتظار میں رہتی ہے کہ انہیں نفرت کا کوئی موضوع ملے۔ بی جے پی آج بتائے کہ کیا انہیں دکھائی نہیں دے رہا ہے کہ ڈیزل پٹرول کتنا مہنگا ہوگیا ہے۔ انہیں دکھائی نہیں دے رہا ہے کہ اٹاوہ میں لائن سفاری نہیں کھل پا رہا ہے۔ لائن سفاری کے اندر کا پورا انتظام برباد ہوگیا ہے۔ بڑے بڑے اسٹیڈیم یہاں بنے کھڑے ہیں ان کو برباد کر رہی ہے بجٹ نہیں دے سکے۔ اس لئے بی جے پی کے لوگ ترقی کی بات نہیں کریں گے۔ روزگار کی بات نہیں کریں گے۔

وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے چھ نومبر کو اٹاوہ دورے کے ضمن میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ ’ہوسکتا ہے کوئی ہمارا ہی کام ہوگا اس کا افتتاح کردیں گے۔ ان کے پاس کوئی اپنا کام نہیں ہے میں تو اٹاوہ والوں سے کہوں گا یہ سوال ضرور پوچھا جائے کہ آپ نے اٹاوہ کے لئے اسپیشل کیا کیا ہے۔ یہاں میڈیکل یونیورسٹی کا سارا بجٹ کاٹ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن سماج وادی پارٹی کے کارکن کسان اسمرتی دیوس کے طور پر منا رہے ہیں۔ آج شام کو ایک دیا جلا کر کسانوں کی یاد میں اسمرتی دیوس منایا جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔