چین نے ڈوکلام میں آباد کیا گاؤں، نئی سیٹلائٹ امیج میں دعویٰ، راہل گاندھی کا مودی حکومت پر حملہ

ڈوکلام کی ایک نئی سیٹلائٹ امیج منظر عام پر آئی ہے۔ اس میں دعوی کیا گیا ہے کہ چین نے ڈوکلام میں ایک گاؤں آباد کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی چند کلومیٹر کی سڑکیں بھی تعمیر کی گئیں۔

راہل گاندھی، تصویر آئی این سی
راہل گاندھی، تصویر آئی این سی
user

علی حیدر

چین کی توسیع پسندانہ پالیسی کو لے کر راہل گاندھی مرکز میں مودی حکومت کے ذریعہ اختیار کردہ حکمت عملی پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے ہند-چین سرحدی تنازعہ پر ایک بار پھر مودی سرکار کو نشانہ بنایا ہے۔ ڈوکلام پر آئی سیٹلائٹ کی نئی تصویر کو لے کر راہل گاندھی نے مرکز پر حملہ کیا ہے۔ کانگریس کے سابق صدر نے ٹوئٹ کیا ’’چین کی زمینی سیاست حکمت عملی کی حقیقت کا مقابلہ پی آر کے ذریعہ چلائی جا رہی میڈیا حکمت عملی سے نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہی عام بات ہندوستانی حکومت کو چلانے والوں کی سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔‘‘

ڈوکلام کی ایک نئی سیٹلائٹ امیج منظر عام پر آئی ہے۔ اس کا دعوی ہے کہ چین نے ڈوکلام میں ایک گاؤں آباد کر لیا ہے۔ میڈیا رپورٹس میں دعوی کیا گیا ہے کہ چین نے ڈوکلام میں ایک گاؤں بنا لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی چند کلومیٹر کی سڑکیں بھی تعمیر کی گئیں ہیں۔ رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ اعلی ریزولیشن سیٹلائٹ کی تصویروں کے تجزیہ کے بعد یہ پتہ چلا ہے کہ چین نے بھارت سے ملحقہ بھوٹان کی سرحد میں یہ گاؤں تعمیر کیا ہے، جس کے ثبوت ملے ہیں۔


اس رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ کی تصویروں کے تجزیہ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ چین نے ڈوکلام پٹھار کے مشرقی کنارے پر بھوٹانی علاقے کے اندر 2 کلومیٹر دور ایک گاؤں آباد کیا ہے۔ نہ صرف گاؤں بلکہ چین نے 9 کلومیٹر لمبی سڑک بھی تعمیر کی ہے، جو ہندوستان کے سرحدی علاقے تک پہنچتی ہے۔ اس رپورٹ کو شیئر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے مرکز میں مودی سرکار پر حملہ کیا ہے اور حکومت کی سوچ پر سوال اٹھائے ہیں۔ اس سے پہلے بھی راہل گاندھی ہند-چین سرحدی تنازعہ پر مودی حکومت کی حکمت عملی پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔