بہار این ڈی اے میں اٹھا پٹخ کے درمیان تبدیلیٔ اقتدار کے آثار!

بہار میں اس سال کے آخر دنوں میں ایک طرف جہاں برسراقتدار این ڈی اے کی پارٹیاں آپس میں لڑتی ہوئی نظر آ رہی ہیں، وہیں اقتدار کی تبدیلی سے متعلق قیاس آرائیاں بھی تیز ہو گئی ہیں۔

تیجسوی یادو، تصویر یو این آئی
تیجسوی یادو، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

بہار میں اس سال کے آخر دنوں میں ایک طرف جہاں برسراقتدار این ڈی اے کی پارٹیوں میں تلخیاں بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہیں، وہیں نئے سال میں ریاست کی سیاست میں تبدیلی کی قیاس آرئیاں بھی کی جانے لگی ہیں۔ ایسے میں اسمبلی میں سب سے بڑی پارٹی آر جے ڈی لیڈر تیجسوی کے نئے سال میں جارحانہ اور نئے تیور کی سیاست دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پارٹی کے صدر لالو پرساد کی غیر موجودگی میں تیجسوی نے اپنی قیادت میں گزشتہ سال ہوئے بہار اسبلی انتخاب میں آر جے ڈی کو سب سے بڑی پارٹی بنا کر وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو چیلنج پیش کر دیا تھا۔

تیجسوی نئے سال میں نئی توانائی کے ساتھ نظر آنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ شادی کے بعد پہلی بار آر جے ڈی دفتر پہنچے تیجسوی یادو نے کہا تھا کہ وہ نئی توانائی کے ساتھ بہار کے لوگوں کی آواز بنیں گے۔ اسی دن انھوں نے ’بے روزگاری یاترا‘ پر نکلنے کا بھی اعلان کیا تھا۔ ایسے میں طے مانا جا رہا ہے کہ اس سال مختلف ایشوز پر جس طرح آر جے ڈی ریاستی حکومت کو گھیرتی رہی ہے اسی طرح آنے والے سال میں بھی آر جے ڈی اپنے ترکش سے مزید تیر نکالے گی۔


آر جے ڈی ترجمان مرتیونجے تیواری بھی کہتے ہیں کہ آر جے ڈی ریاست میں اپوزیشن کے کردار میں ہے اور وہ اپنی ذمہ داری اسمبلی کے اندر اور باہر بخوبی نبھا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی اور جے ڈی یو بے روزگار نوجوانوں کو روزگار دینے کا وعدہ انتخاب کے دوران کیا تھا، آخر اب تک کتنے لوگوں کو روزگار ملا، حکومت اب تک نہیں بتا پا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کتنی مضحکہ خیز حالت ہے کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار اپنی ہی حکومت سے خصوصی ریاست کا درجہ مانگ رہے ہیں۔

اس درمیان تصور کیا جا رہا ہے کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار جس طرح ’سماج سدھار ابھیان‘ (سماجی اصلاح مہم) کے تحت ریاست کا دورہ کر رہے ہیں، اسی کے جواب میں آئندہ سال تیجسوی ’بے روزگاری یاترا‘ پر نکلیں گے۔ اس یاترا کے دوران وہ بے روزگاری کے ایشوز پر حکومت کو گھیریں گے۔ اس کے علاوہ آر جے ڈی خصوصی ریاست کا درجہ، ذات پر مبنی مردم شماری، شراب بندی پر عمل جیسے ایشوز پر حکومت سے سوال پوچھے گی۔


کہا جا رہا ہے کہ این ڈی اے میں جس طرح چھوٹی پارٹیاں تیور دکھا رہی ہیں، اس میں آر جے ڈی کوئی نیا داؤ بھی کھیل سکتی ہے۔ این ڈی اے میں شامل ہندوستانی عوام مورچہ (ہم) ہو یا وکاس سشیل انسان پارٹی (وی آئی پی) دونوں ہی پارٹیاں پہلے اپوزیشن پارٹیوں کے مہاگٹھ بندھن میں شامل تھے۔

قابل ذکر ہے کہ لالو پرساد کے چھوٹے بیٹے تیجسوی یادو ریاست میں نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھال چکے ہیں اور فی الحال وہ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہیں۔ اِدھر آر جے ڈی کے رکن اسمبلی بھائی ویریندر بھی کہتے ہیں کہ آنے والا سال بہار کے مستقبل کا خاکہ طے کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ آر جے ڈی شروع سے ہی حکومت کی غلط پالیسیوں کو لے کر لوگوں کے درمیان جاتی رہی ہے۔ آنے والے سال میں بھی گاندھی میدان میں بے روزگاری ریلی کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں روزگار کو لے کر حکومت سے سوال پوچھے جائیں گے۔ انھوں نے این ڈی اے میں گانٹھ پڑنے کے سلسلے میں پوچھے جانے پر کہا کہ یہ این ڈی اے کا داخلی معاملہ ہے، لیکن سیاست میں سبھی طرح کے متبادل کھلے رہتے ہیں۔ انھوں نے حالانکہ اشاروں ہی اشاروں میں اتنا ضرور کہا کہ آئندہ سال بہار کی سیاست میں تبدیلی بھی لا سکتے ہیں۔


بہر حال، آنے والا سال بہار کی سیاست میں کیا تبدیلی لائے گا، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن اتنا طے ہے کہ ریاست کی سب سے بڑی پارٹی آر جے ڈی برسراقتدار اتحاد کو چین سے بیٹھنے نہیں دے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔