معذوروں کی ٹیکہ کاری سے متعلق عدالت عظمیٰ نے مرکز سے جواب طلب کیا

عدالت عظمی نے سماعت کے دوران کہا کہ چونکہ عرضی میں معذوروں کے حقوق کے جائز سوالات اٹھائے گئے ہیں، اس لئے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا جاتا ہے، جس کے جواب کے لئے دو ہفتے کا وقت دیا جاتا ہے۔

سپریم کورٹ / آئی اے این ایس
سپریم کورٹ / آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے معذوروں کو گھر گھر جاکر کورونا کی ویکسین لگانے سے متعلق عرضی پر مرکزی حکومت سے پیر کو جواب طلب کیا۔ جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی صدارت والی بنچ نے ایک غیر سرکاری تنظیم ایوارا فاؤنڈیشن کی عرضی کی سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا۔ عدالت نے اگرچہ حکومتوں کو اس معاملے میں نوٹس جاری کرتے ہوئے انکار کر دیا کہ اگر ریاستوں کو اس میں فی الحال شامل کیا گیا تو دو ہفتے تو کیا دو ماہ میں بھی جواب نہیں آئیں گے۔ جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ بالآخر ٹیکہ کاری کے لئے مرکز کو نوٹس طے کرنا ہے۔

عدالت عظمی نے سماعت کے دوران کہا کہ چونکہ عرضی میں معذوروں کے حقوق کے جائز سوالات اٹھائے گئے ہیں، اس لئے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا جاتا ہے، جس کے جواب کے لئے دو ہفتے کا وقت دیا جاتا ہے۔ عرضی گزار کا کہنا ہے کہ معذوروں کے لئے ٹیکہ کاری سینٹر تک پہنچانا مشکل ہوتا ہے، اس لئے ان کے گھر جاکر ٹیکے لگائے جائیں۔ عرضی گزار نے ٹیکہ کاری کے لئے وقت طے کرنے میں معذوروں کو ترجیح دیئے جانے اور کوون کے علاوہ وقف ہیلپ لائن شروع کرنے کی مانگ بھی کی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔