سپریم کورٹ نے مودی کے ڈریم چار دھام پروجیکٹ پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھا

سپریم کورٹ نے جمعرات کو وزیر اعظم نریندر مودی کے 12,000 کروڑ روپے کے چاردھام نیشنل ہائی وے پروجیکٹ کی سماعت کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔

سپریم کورٹ / آئی اے این ایس
سپریم کورٹ / آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو وزیر اعظم نریندر مودی کے 12,000 کروڑ روپے کے چاردھام نیشنل ہائی وے پروجیکٹ کی سماعت کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔ مرکزی حکومت نے اتراکھنڈ میں 900 کلومیٹر طویل ہائی وے پروجیکٹ کے تحت سڑکوں کی چوڑائی ساڑھے پانچ سے بڑھا کر 10 میٹر کرنے کے لیے عدالت عظمیٰ سے اجازت طلب کی ہے۔ قبل ازیں عدالت عظمیٰ نے اسے ساڑھے پانچ میٹر تک چوڑا کرنے کی اجازت دی تھی۔

جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سماعت والی تین رکنی بنچ نے مرکزی حکومت اور غیر سرکاری تنظیم (این جی او) سٹیزن فار گرین دون سے کہا کہ وہ اگلے دو دنوں میں سپریم کورٹ کے سامنے اپنی تحریری تجاویز پیش کریں۔ اس کے بعد ماحولیاتی تحفظ اور قومی سلامتی کے مختلف نکات پر غور کرنے کے بعد بنچ اپنا فیصلہ سنائے گی۔ سپریم کورٹ نے ستمبر 2020 میں مرکزی حکومت کو اپنے 2018 کے نوٹیفکیشن کی تعمیل کے پیش نظر سڑک کی چوڑائی ساڑھے پانچ میٹر رکھنے کا حکم دیا تھا۔ مرکزی حکومت نے ہندوستان-چین سرحد پر پچھلے ایک سال میں بدلی ہوئی صورتحال کے پیش نظر فوجی حفاظتی حصار کو مضبوط بنانے کا حوالہ دیتے ہوئے سڑک کی چوڑائی 10 میٹر تک بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔


ماحولیاتی مسائل پر کام کرنے والی این جی او سٹیزنز فار گرین دون مرکزی حکومت کے اس مطالبے کی مخالفت کر رہی ہے اور کہا ہے کہ سڑکوں کی چوڑائی بڑھانے سے ماحولیات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں اضافہ ہوگا۔ ہمالیائی خطے میں سڑکوں کی چوڑائی بڑھنے سے نایاب آبی مخلوقات اور جانوروں کی بقا کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ تعمیراتی کام کی وجہ سے گلیشیئر پگھلنے کا خدشہ ہے۔ اس کی وجہ سے گنگا اور اس کی مختلف معاون ندیوں کے پانی کی سطح میں اضافے سے ملک بھر میں جان و مال کے بھاری نقصان کا قوی امکان ہے۔

گزشتہ سماعت کے دوران مرکزی حکومت کی طرف سے بنچ کے سامنے پیش ہوئے اٹارنی جنرل کے وینوگوپال نے کہا تھا کہ گزشتہ ایک سال میں ہندوستان-چین سرحد پر زمینی صورتحال میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ اس وجہ سے فوجیوں اور فوجی ساز و سامان کو مقررہ جگہ تک پہنچانے کے لیے مجوزہ سڑک کی چوڑائی میں اضافہ کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔


انہوں نے سماعت کے دوران کہا تھا کہ چین کے ساتھ 1962 جیسی جنگ کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اب ہائی وے کو چوڑا کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ قومی سلامتی کے پیش نظر اجازت دی جائے۔ این جی او نے ماحولیاتی خطرات سے متعلق کئی سوالات کئے تھے جن میں پروجیکٹ میں تعمیراتی کام کے دوران بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی بھی شامل تھی۔

اس پروجیکٹ کا کام وزیر اعظم نریندر مودی نے 27 دسمبر 2016 کو شروع کیا تھا۔ اس منصوبے کو دسمبر 2021 تک مکمل کرنے کا منصوبہ تھا۔ 889 کلومیٹر چار دھام ہائی وے روڈ پروجیکٹ اتراکھنڈ میں چار ہندو یاتری مراکز - بدری ناتھ، کیدارناتھ، گنگوتری اور یمانوتری کو ہر موسم میں رابطہ فراہم کرے گا۔ اسے آل ویدر ہائی وے پروجیکٹ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ منصوبہ تقریباً 12000 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے شروع کیا گیا تھا۔ پروجیکٹ کے آغاز کے موقع پر کہا گیا تھا کہ اس سے لاکھوں یاتریوں کو ہر موسم میں چاردھام جانے میں سہولت ہوگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔