ہندوستان اور ایران کے درمیان گہرے تعلقات میں اردو میڈیا کا کردار بہت اہم: ڈاکٹر محمد علی ربانی

ایران کلچرل ہاؤس کے ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد علی ربانی نے کہا کہ کئی صدیوں سے ہند ایران کے ثقافتی، تہذیبی اور قدیم رشتے ہیں جس کا اعتراف کئی پلیٹ فارم پر کیا جاتا رہا ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: ہندوستان ایران کے گہرے تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایران کلچرل ہاؤس کے ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد علی ربانی نے کہا کہ ہندوستان اور ایران کے تعلقات بہت ہی قدیم اور ثقافتی ہیں اور میڈیا والے اس میں مزید چار چاند لگا سکتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے آج یہاں اردو میڈیا کے صحافیوں کے ساتھ ایران کلچرل ہاؤس میں منعقدہ ایک خصوصی نشست میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ کئی صدیوں سے ہند ایران کے ثقافتی، تہذیبی اور قدیم رشتے ہیں جس کا اعتراف کئی مقامات اور پلیٹ فارم پر کیا جاتا رہا ہے لیکن یہاں کا میڈیا اور خاص طور پر اردو کے صحافی اس میں چار چاند لگا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو ان چیزوں کی طرف خاص طور پر توجہ دینی چاہئے جس سے دونوں ملکوں کے مصنوعات، یکساں تہذیب اور ثقافت نمایاں ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے بہت سارے مصنوعات ہیں جس پر توجہ دینے اور اس پر لکھنے سے دونوں ملکوں کے تعلقات اور عوام کے درمیان رابطے کی کڑی مضبوط ہوسکتی ہے۔


انہوں نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور ایران کے صحافیوں کی ایک انجمن ہونی چاہئے جہاں دونوں ملکوں کے صحافیوں ایک دوسرے ملک کے بارے میں اور وہاں کی مصنوعات، کلچرل اور تہذیب کے بارے میں کھل کر باتیں کرسکیں اور میڈیا میں ان چیزوں کو جگہ دے سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی آرٹ اور کلچرل سے ہندوستانی عوام کو روشناس کرانے کے لئے ایران آئندہ ہندوستان کے صوبہ ہریانہ میں لگنے والے میلے میں شامل ہوگا اور اپنے آرٹ اور فن کاری کا نمونہ پیش کرے گا۔ اس سے ہندوستانی عوام کو ایران کے آرٹ اور کلچرل کے بارے میں بہتر طور پر جاننے کا موقع ملے گا۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ کچھ ایسا پروگرام کرنا چاہتے ہیں جس میں ہندوستان اور ایران کے صحافی شامل ہوں گے۔

آئی آر آئی بی کے دہلی کے بیورو چیف ڈاکٹر عباس نصیری طاہری نے اس موقع پر اطلاعات فراہم کرنے میں میڈیا کا کردار اہم ہوتا ہے اورہندوستانی خاص طور پر اردو میڈیا کو ہند ایران کے مابین اطلاع بہم پہنچانے میں اہم کردار ادا کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا عوام اور ملکوں کو جوڑنے کا اہم ذریعہ ہے اور جس دور میں اپنی زندگی گزار رہے ہیں اس دور کو اطلاعاتی ٹیکنالوجی کا دور کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے کہنے کا مقصد میڈیا کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔


انہوں نے کہا کہ میں ڈاکٹر محمد علی ربانی کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہنا چاہتا ہوں کہ ہندوستان کا ایران سے اور ایران کا ہندوستان سے رابطہ پیدا کرنے میں میڈیا اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں میڈیا کو ہندوستان اور ایرانی تاریخی اور ثَقافتی تعلقات کو اجاگر نا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اردو میڈیا کے صحافی ایران کے اردو میں ریڈیو، ٹی وی اور دیگر میڈیا ادارے سے جڑسکتے ہیں وہاں کے بارے میں پڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ بھی جاننے کے خواہش مند ہیں کہ ایران کے بارے میں اردو میڈیا کا کیا ’فیڈ بیک‘ ہے۔

ڈاکٹر نصیری نے اردو میڈیا سے مدد کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایران کا بہتر موقف رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کا کام مقدس ہے جس طرح اولیاء اللہ اللہ کے پیغام کو پہنچاتے تھے اسی طرح آپ بھی صحیح پیغام دونوں ملکوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ اس موقع پر اردو صحافیوں کو ایران کلچرل ہاؤس کے ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد علی بانی نے سپاس نامہ دیکر عزت افزائی بھی کی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔