’ڈاکٹر‘ لکھنے کا حق صرف میڈیکل پروفیشنلز تک محدود نہیں: کیرالہ ہائی کورٹ
عدالت نے کہا کہ ’’ڈاکٹر کا لقب خاص طور سے میڈیکل پروفیشنلز کا ہے، ایک غلط فہمی ہے کیونکہ اب بھی قدیم زمانے کی طرح پی ایچ ڈی جیسی اعلیٰ تعلیمی قابلیت رکھنے والے ڈاکٹر کا لقب استعمال کرنے کے حقدار ہیں‘‘

ملک میں کئی طرح کے ڈاکٹر موجود ہیں، جو اپنے نام کے آگے ’ڈاکٹر‘ کا سابقہ (پریفکس) استعمال کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کے علاوہ بھی کئی طرح کے لوگ جو کسی خاص شعبہ میں مہارت رکھتے ہیں، وہ بھی اپنے نام کے آگے ’ڈاکٹر‘ کے سابقہ کا استعمال کرتے ہیں۔ حالانکہ اس سابقہ کے استعمال پر طبی ماہرین (میڈیکل پروفیشنلز) کی جانب سے اعتراض درج کرایا گیا تھا۔ اسی سلسلے میں کیرالہ ہائی کورٹ میں عرضی بھی داخل کی گئی تھی۔
کیرالہ ہائی کورٹ نے سابقہ کے طور پر ’ڈاکٹر‘ کے استعمال کے متعلق معاملہ پر سماعت کی اور عرضی کو خارج کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ ’ڈاکٹر‘ لفظ کا استعمال شروع میں ایسے شخص کے لیے کیا جاتا تھا، جس نے علم کی اعلیٰ ترین سطح حاصل کر لی ہو اور جسے دینیات، قانون اور فلسفہ جیسے شعبوں میں پڑھانے کا لائسنس ملا ہو۔ اس لیے اس پر صرف میڈیکل پروفیشنلز دعویٰ نہیں کر سکتے ہیں۔
عدالت کا کہنا ہے کہ لفظ ’ڈاکٹر‘ کا اصل مطلب ایک ایسا پڑھا لکھا شخص جو پڑھانے کا اہل ہو، لیکن آہستہ آہستہ میڈیکل سائنس میں ترقی کے ساتھ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ڈاکٹر اور میڈیسن میں ڈگری والے لوگوں کو ’ڈاکٹر‘ کہا جانے لگا۔ عدالت نے مزید کہا کہ اس لیے یہ دعویٰ کہ ’ڈاکٹر‘ کا لقب خاص طور سے میڈیکل پروفیشنلز کا ہے، ایک غلط فہمی ہے کیونکہ اب بھی قدیم زمانے کی طرح پی ایچ ڈی جیسی اعلیٰ تعلیمی قابلیت رکھنے والے لوگ ’ڈاکٹر‘ کا لقب استعمال کرنے کے حقدار ہیں۔
کیرالہ ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا کہ این ایم سی ایکٹ میں اہل میڈیکل پروفیشنلز کو ڈاکٹر کا لقب دینے کا کوئی التزام نہیں ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ہ کیرالہ اسٹیٹ میڈیکل پریکٹیشنرز ایکٹ کی دفعہ 40 میں استعمال کیے گئے لفظ ’لقب‘ کو قانونی طور پر اہل میڈیکل پروفیشنلز کو اپنے نام کے آگے ’ڈاکٹر‘ لگانے کا حقدار نہیں سمجھا جا سکتا ہے۔ ایسے التزامات کی عدم موجودگی میں عرضی گزار (ڈاکٹر) ’ڈاکٹر‘ کے سابقہ کا استعمال کرنے کے خصوصی حق کا دعویٰ نہیں کر سکتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ کچھ میڈیکل پروفیشنلز کے کہنے پر مرکزی حکومت کی پالیسی میں چھیڑ چھاڑ کرنا غلط ہوگا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔