لفّاظی کرنے والی حکومت کا سچ سے سامنا، دنیا کے آگے ہاتھ پھیلانے کو مجبور!

ہندوستان نے گزشتہ سال خوب پیٹھ تھپتھپائی، ’وندے بھارت‘ اور ’ویکسین میتری‘ کا بھی خوب ڈھنڈورا پیٹا اور پی ایم مودی نے تکّبر کے ساتھ کہا کہ ہم نے کورونا کو ہرا دیا لیکن آج ہمیں جھولی پھیلانی پڑ رہی ہے

کورونا سے فوت ہونے والے شخص کی آخری رسومات ادا ہونے کا منظر / یو این آئی
کورونا سے فوت ہونے والے شخص کی آخری رسومات ادا ہونے کا منظر / یو این آئی
user

اتم سین گپتا

ہندوستان میں آج چہار جانب ہاہاکار ہے اور لوگ درد سے کراہ رہے ہیں۔ دہلی این سی آر میں ریزیڈنٹ ولفیئر ایسوسی ایشن (آر ڈبلیو ایز) موبائل آکسیجن سلینڈر اور آکسیجن کنٹریکٹر کے بارے میں پوچھ گچھ کرنے پر مجبور ہیں۔ جبکہ کچھ آر ڈبلیو ایز نے پیشگی سلینڈر بک کرا لئے ہیں، تاکہ وقت ضرورت پر کام آ سکے۔ حالانکہ کچھ لوگ اپنے ضمیر کی آواز سن کر یہ سوچنے پر بھی مجبور ہیں کہ آیا کسی ممکنہ خطرے کے پیش نظر آکسیجن وغرہ بک کرنا کیا صحیح ہے؟

غور طلب ہے کہ ایک ایک سوسائٹی میں 50 سے 500 تک کنبہ رہائش پذیر ہوتے ہیں، آخر ایک سلینڈر کتنی دیر چلے گا، کچھ گھنٹے! اور پھر آکسیجن کے فلو کو کم زیادہ کرنے کی بھی تو ضروررت ہوگی۔ اس کے لئے کسی کو نگہداشت بھی کرنا ہوگی۔ اگر تربیت یافہ نہیں مل سکتا تو فائدے کی جگہ نقصان بھی اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ تو ایسی صورت حال میں ترجیحات طے کرنا ہوں گی اور دیکھنا ہوگا کہ آکسیجن کا کون استعمال کر سکتا ہے اور کون نہیں، لیکن ایسا کس طرح ہوگا؟


متوسط طبقہ کا سچ سے سامنا

ہندوستان کے متوسط طبقہ کو اس حقیقت کا اندازہ ہو گیا ہے کہ وہ بالکل تنہا ہے۔ دہلی کے اسپتال میں بیڈ لینے کی بات ہو، آکسیجن کا انتظام کرنے کی بات ہو یا پھر کووڈ ٹیسٹ کے لئے گھر سے نمونہ لے جانے کے لئے ٹیکنیشین کو بلانے کی، کچھ بھی کام نہیں آ رہا۔ خاندانی پسِ منظر، دولت اور سیاسی روابط سب بے کار ہو گئے ہیں۔ اگر کسی طرح سیمپل دے بھی دیا تو نتائج آنے میں اتنی دیر ہو جاتی ہے کہ اس وقت تک مریض کی جان ہی چلی جاتی ہے۔ کچھ معاملوں میں تنیجہ غلط بھی آ سکتا ہے۔ ایمبولنس کو فون کریں تو ہو سکتا ہے کہ اسے آنے میں گھنٹوں لگ جائیں اور اگر آئے بھی تو ڈرائیور بہت زیادہ کرایہ طلب کر لے۔

دہلی والوں کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ جب تک اسپتال میں ڈیوٹی پر موجود کوئی ڈاکٹر یا طبی عملہ کوئی رشتہ دار، دوست یا پڑوسی نہیں ہوتا، اسپتال میں رہنے کا تجربہ اچھا نہیں۔ ڈاکٹروں کی اپنی مجبوری ہے۔ مریضوں کا اتنی بڑی تعداد میں مسلسل علاج کرنا، اپنے ہی ساتھیوں اور کنبہ والوں میں ناخوشگوار واقعات رونما ہونا، اس سے وہ خود ہی ٹوٹ سے گئے ہیں۔ پچھلے ایک سال کے دوران متعدد ڈاکٹروں نے ذہنی طور پر تھک جانے کی وجہ سے اس پیشہ کو ہی خیرباد کہہ دیا ہے۔ پہلے ہی ڈاکٹروں کی کمی کے مسئلہ کا سامنا کر رہا یہ شعبہ مزید بحران کا شکار ہو گیا ہے۔ کچھ نے افسردگی کی وجہ سے استعفیٰ دے دیا ہے، جبکہ کچھ خود کے متاثر ہونے کی وجہ سے تنہائی میں زندگی گزار رہے ہیں۔


نجی اسپتالوں میں بھی بستر نہیں ہیں اور اس کی وجہ سے وہ شدید طور سے مریضوں کو بھی بھرتی نہیں کر پا رہے۔ ویسے بھی، کچھ ڈاکٹر یہ کہتے ہیں کہ نجی اسپتالوں کی کم سنگین مریضوں کے علاج میں دلچسپی کم ہوتی ہے، جن کے علاج کے اخراجات کم ہوتے ہیں، لیکن کمائی زیادہ ہوتی ہے۔ بلاوجہ اسپتال میں داخل ہونے کی مثالیں نہ صرف نجی بلکہ سرکاری اسپتالوں میں بھی نظر آ رہی ہیں۔ ایک سرکاری اسپتال کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک مریض چارپائی پر بیٹھا کتاب پڑھ رہا ہے۔ اس کے آس پاس کچھ کتابیں ہیں۔ مبینہ طور پر وہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کے امتحان کی تیاری کر رہا ہے۔ اگر یہ شخص اتنا صحت مند ہے کہ وہ امتحان کی تیاری کرسکتا ہے، تو پھر وہ اسپتال میں داخل کیوں ہے؟

اب کہاں گیا وہ دم؟

پچھلے سال ہندوستان نے اپنی پیٹھ تھپتھپائی تھی۔ اپنی شبیہہ کو چمکانے میں مصروف رہنے والی حکومت نے ’وندے بھارت‘ اور ’ویکسین میتری (دوستی)‘ کو اپنی کامیابی بتانے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ غیر ملکی فارما کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں پر دستخط نہ کرنے سے، ہندوستان نے گھریلو سطح پر ویکسین تیار کرنے کی بڑے فخر سے بات کی۔ مدد کے کے لئے بڑھائے گئے ہاتھوں کو بھی جھٹک دیا۔ ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں وزیر اعظم نے تکّبر سے کہا کہ ہندوستان نے دنیا کو غلط ثابت کر دیا۔ ہم نے وائرس کو شکست دے دی ہے۔ بظاہر وہ ایک الگ طرح سے اپنی ہی قیادت کی تعریف کر رہے تھے۔ اس کے چند ہی مہینوں کے بعد یہ عالم ہے کہ ہندوستان کو وینٹی لیٹر، ویکسین اور آکسیجن وغیرہ کے لئے ماریشس جیسے چھوٹے ممالک کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑ رہا ہے۔ بنگلہ دیش نے ہندوستان کے ساتھ اپنی سرحدوں کو سیل کر دیا ہے اور دوسرے ممالک نے ہندوستان سے آنے والی پروازوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس پر رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے ٹوئٹ کر کے طنز کیا ہے کہ واقعی آج ہندوستان سے سب کو ڈر لگنے لگا ہے۔


ماہرین اس معاملے میں متفق ہیں کہ ہندوستان کو آناً فاناً میں اپنی پوری آبادی کو ٹیکہ لگانا ہوگا لیکن جو حالات ہیں ان کے پیش نظر اس میں اگر سال نہیں تو مہینوں تو لگ ہی جائیں گے۔ ہمارے پاس ٹیسٹنگ کٹس کی کمی ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم جو بھی ٹیسٹ کر پا رہے ہیں وہ ان لوگوں کے کر رہے ہیں جن میں کچھ علامات ظاہر ہو رہی ہیں۔ جن میں علامات نہیں ہیں، ان پر توجہ نہیں دی جا رہی۔ ایسی صورتحال میں اگر ان میں انفیکشن نہیں پھیلے گا تو اور کیا ہوگا؟ یہ آئینے کی طرح واضح ہے کہ ہندوستان کو اپنے عوامی صحت کے نظام کو نئے سرے سے کھڑا کرنا پڑے گا لیکن حکومت کی دلچسپی فلک بوش مجسمے نصب کرنے اور نئے پارلیمنٹ ہاؤس بنانے میں زیادہ نظر آ ہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 30 Apr 2021, 7:11 PM