’عوام نے ہم میں اعتماد ظاہر کر تاناشاہی طاقتوں کو سخت جواب دیا‘، سی ڈبلیو سی کی میٹنگ سے کھڑگے کا خطاب

ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ میں لوگوں کے چہیتے راہل گاندھی جی کو مبارکباد دینا چاہوں گا جنھوں نے آئین، معاشی عدم مساوات، بے روزگاری اور سماجی انصاف و خیر سگالی جیسے ایشوز کو مضبوطی سے اٹھایا۔

<div class="paragraphs"><p>ملکارجن کھڑگے اور سونیا گاندھی، تصویر ویپن</p></div>

ملکارجن کھڑگے اور سونیا گاندھی، تصویر ویپن

user

قومی آوازبیورو

دہلی میں آج کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ چل رہی ہے جس میں لوک سبھا انتخاب کے نتائج اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ اس میٹنگ کے درمیان کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ شیئر کیا ہے جس میں انھوں نے میٹنگ میں اپنی استقبالیہ تقریر کے کچھ اہم نکات ظاہر کیے ہیں۔ انھوں نے سب سے پہلے اٹھارہویں لوک سبھا انتخاب کے بعد ہو رہی کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کی پہلی میٹنگ میں شامل سبھی لیڈران کا تہہ دل سے استقبال کیا اور پھر اپنی باتیں سبھی کے سامنے رکھیں۔ جو باتیں کھڑگے نہیں اپنی تقریر میں کہیں، وہ اس طرح ہیں…

  • کانگریس ورکنگ کمیٹی ملک بھر میں پھیلے کانگریس پارٹی لیڈران اور کروڑوں کارکنان کا شکریہ ادا کرتی ہے، جنھوں نے گزشتہ کچھ مہینوں میں سخت محنت کی۔ میں آپ کے عزائم، حوصلہ اور محنت کے لیے مبارکباد دیتا ہوں۔

  • عوام نے ہم میں اعتماد ظاہر کر کے تاناشاہی طاقتوں اور آئین مخالف طاقتوں کو سخت جواب دیا ہے۔ ہندوستان کے ووٹرس نے بی جے پی کی دس سالہ تخریب کاری، نفرت و پولرائزیشن پر مبنی سیاست کو خارج کیا ہے۔

  • کانگریس ورکنگ کمیٹی کانگریس کے سبھی نومنتخب اراکین کو مبارکباد دیتی ہے، جنھوں نے مشکل حالات میں انتخاب لڑ کر جیت حاصل کی۔ انھیں اٹھارہویں لوک سبھا کا رکن بننے پر مبارکباد۔

  • اس موقع پر میں محترمہ سونیا گاندھی جی کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہوں گا، جنھوں نے انتخاب کی تیاریوں، اتحاد کی میٹنگوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنے طویل تجربات کی بنیاد پر ہم سب کی رہنمائی کی۔

  • میں لوگوں کے چہیتے راہل گاندھی جی کو بھی مبارکباد دینا چاہوں گا، جنھوں نے آئین، معاشی عدم مساوات، بے روزگاری اور سماجی انصاف و خیر سگالی جیسے ایشوز کو مضبوطی کے ساتھ اٹھایا۔

  • یہ راہل جی کی قیادت میں دو سال قبل چار ہزار کلومیٹر طویل ’بھارت جوڑو یاترا‘ اور پھر 6600 کلومیٹر طویل ’بھارت جوڑو نیائے یاترا‘ کا ثمرہ ہے، جس کی مدد سے ہمیں عوام سے جڑنے اور ان کے مسائل، ضروریات و خواہشات کو جاننے میں مدد ملی۔ اسی بنیاد پر کانگریس پارٹی نے اپنی انتخابی مہم تیار کی۔

  • پرینکا (گاندھی) جی کو خاص طور سے مبارکباد دینا چاہوں گا جنھوں نے امیٹھی اور رائے بریلی کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر حصوں میں بھی زوردار انتخابی تشہیر کی۔

  • میں کانگریس کے اپنے سبھی سینئر ساتھیوں کا شکرہی ادا کروں گا جنھوں نے ایک ٹیم کی طرح کام کیا۔ یہ ہماری اجتماعی کوششوں کا ہی اثر تھا کہ ملک بھر میں ہمارے کارکنان ساتھیوں نے ایک نئے جوش اور امنگ کے ساتھ کام کیا۔ انھوں نے اپنے اپنے علاقہ میں اہم تعاون پیش کیا۔ ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی ہے کہ محنت اور عزم سے ہم بڑے سے بڑے مخالف کو شکست دے سکتے ہیں۔

  • یہاں میں اس بات کا بھی خاص تذکرہ کرنا چاہوں گا کہ جہاں جہاں سے ’بھارت جوڑو یاترا‘ اور ’بھارت جوڑو نیائے یاترا‘ گزری، وہاں پر کانگریس پارٹی کے ووٹ فیصد اور سیٹوں میں اضافہ ہوا۔

  • منی پور، جہاں سے نیائے یاترا شروع ہوئی، وہاں ہم دونوں سیٹیں جیتے۔ ناگالینڈ، آسام، میگھالیہ جیسی شمال مشرق کی کئی ریاستوں میں ہمیں سیٹیں ملی ہیں۔ مہاراشٹر میں ہم سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرے۔ ملک بھر میں کانگریس پارٹی کو جمہوریت و آئین بچانے کے لیے لوگوں کی زبردست حمایت ملی۔

  • جہاں ہم کچھ ریاستوں میں کانگریس پارٹی کی بہترین کارکردگی سے خوش ہیں، تو وہیں ان ریاستوں پر بھی خاص طور سے غور کرنا ہوگا جہاں کانگریس پارٹی کے امکانات اور امیدوں کے برعکس نتائج آئے۔ جہاں ہم نے اسمبلی انتخاب میں بہتر کارکردگی کے ساتھ حکومت بنائی، لیکن لوک سبھا میں اس کارکردگی کو دہرا نہیں پائے۔

  • میں اس میٹنگ میں اپنے انڈیا اتحاد کی ساتھی پارٹیوں کی تعریف بھی خاص طور پر کرنا چاہوں گا۔ مختلف ریاستوں میں سبھی ساتھی پارٹیوں نے اہم کردار نبھایا، ہر فریق نے ہر ممکن تعاون دیا۔ ایک آواز میں ساتھ رہے۔ انڈیا اتحاد کے ساتھیوں کے ساتھ ہم پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کے باہر متحد ہو کر اور مل کر کام کریں گے۔

  • جن اہم ایشوز کو لے کر ہم انتخابی میدان میں اترے، وہ عوام سے جڑے ہوئے ایشوز ہیں۔ اس لیے وہ ہمیشہ ہماری توجہ میں رہیں گے۔ پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کے باہر عوام کے ان سوالات کو ہم لگاتار اٹھاتے رہیں گے۔

  • ہم مینڈیٹ کو پورے خلوص کے ساتھ قبول کرتے ہیں۔ ملک کی عوام کے ایک بڑے طبقے نے ہم پر بھروسہ کیا ہے، ہم ان کا بھروسہ برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ہمیں ڈسپلن میں رہنا ہے۔ ہمیں متحد رہنا ہے۔

  • ہمارا کام مستقل جاری رہے گا، چاہے ہم اقتدار میں ہوں یا نہیں۔ ہمیں 24 گھنٹے، 365 دن لوگوں کے درمیان رہنا ہوگا، عوامی ایشوز کو اٹھانا ہوگا۔

  • کچھ مہینوں میں اہم ریاستوں کے (اسمبلی) انتخابات ہونے ہیں۔ ہمیں ہر قیمت پر مخالف پارٹیوں کو شکست دے کر اپنی حکومت بنانی ہے۔ لوگ تبدیلی چاہتے ہیں، ہمیں ان کی طاقت بننا ہوگا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔