اتر پردیش کے عوام کو لگے گا 'کرنٹ'! بجلی کی شرحوں میں ہو سکتا ہے اضافہ!

اتر پردیش پاور کارپوریشن لمیٹڈ کے ذریعہ متعارف کرائے گئے نئے بجلی کے نرخوں میں صارفین کے مختلف زمروں کے لئے 23 فیصد تک اضافے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

بجلی، تصویر آئی اے این ایس
بجلی، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

یوپی کے عوام کو بجلی کا زبردست جھٹکا لگ سکتا ہے۔ اتر پردیش الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن (یو پی ای آر سی) جون کے پہلے ہفتے تک نظر ثانی شدہ بجلی کی شرحوں کا اعلان کر سکتا ہے۔ یہ اطلاع سرکاری ذرائع نے دی ہے۔ اتر پردیش پاور کارپوریشن لمیٹڈ (یو پی پی سی ایل) کے ذریعہ متعارف کرائے گئے نئے بجلی کے نرخوں میں صارفین کے مختلف زمروں کے لئے 23 فیصد تک اضافے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ شہری گھریلو صارفین کے لیے کارپوریشن نے تقریباً 18 فیصد اضافے کی تجویز پیش کی ہے۔ کمیشن نے 19-2018 سے بجلی کے نرخوں پر نظر ثانی نہیں کی۔ 

یو پی ای آر سی نے تمام بجلی تْقسیم کرنے والی کمپنیوں یعنی ڈسکام میں عوامی سماعت مکمل کر لی ہے۔آخری سماعت نوئیڈا میں 28 اپریل کو ہوئی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ کمیشن اب عوامی اعتراضات کی ایک مرتب شدہ رپورٹ مختلف ڈسکام کو بھیجے گا تاکہ ان کا جواب طلب کیا جا سکے۔ اس کے بعد، کمیشن ٹیرف کا باضابطہ اعلان کرنے سے پہلے اسٹیک ہولڈرز کے تمام تبصروں کو مدنظر رکھتے ہوئے شرحوں یعنی ٹیرف کا تجزیہ کرے گا۔ 


ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ اس میں ایک ماہ لگنے کی امید ہے۔ توقع ہے کہ کمیشن جون کے پہلے ہفتے تک ٹیرف کا اعلان کر دے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ یو پی پی سی ایل نے تھرمل پاور پلانٹس کی بڑھتی ہوئی آپریٹنگ لاگت کو اجاگر کیا ہے۔ یہاں استعمال ہونے والے کوئلے کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ 

یو پی پی سی ایل نے نہ صرف پاور یونٹ چارج میں اضافے کی تجویز پیش کی ہے بلکہ فکسڈ چارج کو بھی 10 سے بڑھا کر 15 فیصد کر دیا ہے۔ اتر پردیش اسٹیٹ الیکٹرسٹی کنزیومر کونسل کے صدر اودھیش ورما، جو بجلی کی قیمتوں کے معاملے میں درخواست گزاروں میں سے ایک ہیں، نے کہا کہ ایسوسی ایشن نے تمام سماعتوں میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ یو پی پی سی ایل کو صارفین کے 25 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کے معاملے کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔