میرے پاس جو قلم ہے وہ سچ لکھنے کے لیے ہے، پاجامہ میں کمربند ڈالنے کے لیے نہیں: منور رانا

منور رانا نے ایف آئی آر درج کیے جانے پر حیران ہوتے ہوئے کہا کہ “مجھے اس کی آفیشیل جانکاری نہیں ہے، لیکن ایف آئی آر کرنے والی پولس بتائے کہ میری وجہ سے کہاں فساد ہو گیا، کس کے جذبات مجروح ہوئے؟”

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

اپنے ایک بیان کی وجہ سے معروف شاعر منور رانا مشکل میں پھنستے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ لکھنؤ کے حضرت گنج تھانہ میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق انھیں کبھی بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ان خبروں کے درمیان منور رانا نے اپنے بیان پر قائم رہنے کی بات کہی اور میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ وہ ہمیشہ سچ بولنا پسند کرتے ہیں، چاہے اس کے لیے انھیں جیل ہی کیوں نہ جانا پڑے۔

ایف آئی آر درج ہونے کے بعد منور رانا نے واضح لفظوں میں کہا کہ "ہمارے پاس جو قلم ہے وہ سچ لکھنے کے لیے ہے۔ پاجامہ میں کمر بند ڈالنے کے لیے نہیں۔" انھوں نے مزید کہا کہ ہم جیل جانا پسند کریں گے اور جیل میں ہی مرنا پسند کریں گے، لیکن اپنے بیان پر قائم رہیں گے۔ منور رانا نے ایف آئی آر درج کیے جانے پر حیرانی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ "مجھے اس کی آفیشیل جانکاری نہیں ہے، لیکن ایف آئی آر کرنے والی پولس بتائے کہ میری وجہ سے کہاں دنگا فساد ہو گیا، کس کے جذبات مجروح ہوئے؟ میں جیل جانے کو تیار ہوں، ضمانت بھی نہیں لوں گا۔"


ایف آئی آر درج ہونے سے منور رانا اس قدر ناراض ہوئے ہیں کہ انھوں نے یوگی حکومت پر حملہ مزید تیز کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ "حکومت نے بہت چھوٹا الزام لگایا ہے، وہ تو مجھے ہاتھرس واقعہ میں فنڈنگ کا الزام بھی لگا سکتی ہے۔ وکاس دوبے کا سرغنہ اور خزانچی بھی بتا سکتی ہے۔" منور رانا کا کہنا ہے کہ کچھ شاعروں کو جب حکومت سے وظیفہ یا پیسہ چاہیے ہوتا ہے، وہ ایسے بیان کی مذمت کرتے رہتے ہیں۔ ہمیں حکومت سے کچھ نہیں چاہیے۔

قابل ذکر ہے کہ منور رانا نے گزشتہ دنوں فرانس واقعہ کو لے کر بیان دیا تھا جو تنازعہ کا شکار بنا ہوا ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کارٹون بنا کر اس نوجوان کو اتنا مجبور کیا گیا کہ وہ کسی کا قتل کر بیٹھا۔ اگر اس طالب علم کی جگہ میں رہا ہوتا تو میں بھی قتل کر بیٹھتا۔ بات پیغمبر صاحب کی ہی نہیں ہے، کوئی اگر بھگوان رام کا متنازعہ کارٹون بناتا تو بھی میں یہی کرتا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 02 Nov 2020, 8:11 PM