کورونا بحران کا منفی اثر خاتون ملازمین پر زیادہ دیکھنے کو ملا: رپورٹ

رپورٹ کے مطابق دنیا (چین کو چھوڑ کر) میں کورونا وائرس کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے شعبوں کے 44 کروڑ ملازموں میں بے روزگاری کاسامنا کرنے والی خواتین کی تعداد 31 کروڑ ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی:عالمی وبا کورونا وائرس (کووڈ-19) وبا کی وجہ سے مندی سے دوچار معاشی سرگرمیوں پر خواتین ملازمین پر زیادہ اثر پڑا ہے۔ ورلڈ اکنامک اسٹیج کی ایک رپورٹ میں یہ جانکاری دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا (چین کو چھوڑ کر) میں کورونا وائرس کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے شعبوں کے 44 کروڑ ملازموں میں بے روزگاری کا سامنا کرنے والی خواتین کی تعداد 31 کروڑ ہے۔ اس معاملے میں مرد ملازمین بہتر حالت میں ہیں اورتیرہ کروڑ مرد ملازمین بے روزگاری کا سامنا کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس کے پس پردہ ایک بڑی وجہ ’سماجی تعصب‘ ہے جو صرف ترقی پذیر ممالک میں ہی نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی موجود ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’مشکل وقت میں، دونوں آجر اور خاندان خواتین کی نوکری کو بہت زیادہ ضروری خیال نہیں کرتے ہیں۔‘‘

خواتین کو گھر کے کام اور دیکھ بھال کے لئے نوکری چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور مرد ان کاموں میں ہاتھ بٹانے سے انکار کردیتے ہیں۔‘‘ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وبا کے پہلے بھی ہندوستانی خواتین تعلیم اور آمدنی کی سطح پر روزگار سے باہر ہورہی تھیں اور مردوخواتین کے درمیان روزگار کا فرق ’تشویشناک شرح‘ سے اضافہ ہورہا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ’’اس کی وجہ تعلیم کی سطح اور امیدوں کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ مواقع کا کم ہونا تھا۔‘‘