پی ایم مودی کے ’پیکیج‘ کو موڈیز نے دکھایا ٹھینگا، راہل نے کہا ’ابھی تو حالات مزید خراب ہوں گے‘

ریٹنگ ایجنسی ’موڈیز‘ نے مودی حکومت کے معاشی پیکیج کو ہندوستانی معیشت کو رفتار دینے میں ناکام قرار دیا ہے۔ اتنا ہی نہیں، اس نے ہندوستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بڑی گراوٹ کر دی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

پہلے سے ہی سست پڑی ہندوستانی معیشت کو کورونا کے قہر نے پوری طرح سے تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ مودی حکومت نے معیشت کو رفتار دینے کے لیے 20 لاکھ کروڑ روپے کے پیکیج کا اعلان کیا تھا۔ اس پیکیج کا باجہ پورے پانچ دن تک میڈیا میں بجتا رہا۔ وزیر مالیات لگاتار پانچ دن تک پریس کانفرنس کر کے میڈیا کو پیکیج کی تفصیل بتاتی رہیں۔ لیکن لگتا ہے کہ اس پیکیج کا ملک کی معیشت پر کوئی مثبت اثر نہیں پڑ رہا۔ دراصل ریٹنگ ایجنسی 'موڈیز' نے مودی حکومت کے پیکیج کو ہندوستان کی معیشت کو رفتار دینے میں ناکام بتایا ہے۔ اتنا ہی نہیں، ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے ہندوستان کی ریٹنگ میں بڑی گراوٹ کر دی ہے۔

کورونا سے نمٹنے کے لیے نافذ ہوئے طویل لاک ڈاؤن، بڑھتے قرض اور کاروباری ماحول میں بحران کو وجہ بتاتے ہوئے ایجنسی نے ہندوستان کی ریٹنگ میں کٹوتی کی ہے۔ ہندوستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو اب Baa2 سے گھٹا کر Baa3 کر دیا گیا ہے۔ موڈیز نے کہا کہ اس کی وجہ سیدھے طور پر کورونا وبا نہیں ہے، لیکن اس کی وجہ سے مشکلیں بڑھی ہیں اور ہندوستان کی کریڈٹ پروفائل میں کٹوتی کرنی پڑی ہے۔ Baa3 کا مطلب سب سے کم انویسٹمنٹ گروتھ یا انویسٹمنٹ کے لیے سب سے ذیلی سطح کی ریٹنگ ہے۔

بی اے اے 3 سب سے ذیلی انویسٹمنٹ گریڈ والی ریٹنگ ہے اور اس کے نیچے کباڑ والی ریٹنگ ہی بچتی ہے۔ ایجنسی نے کہا ہے کہ موڈیز نے ہندوستان کی مقامی کرنسی بغیر گارنٹی والی ریٹنگ کو بھی بی اے اے 2 سے گھٹا کر بی اے اے 3 کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جز وقتی مقامی کرنسی ریٹنگ کو بھی پی-2 سے گھٹا کر پی-3 پر لا دیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی کا رد عمل سامنے آیا ہے اور انھوں نے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت گرتی معیشت کو سنبھالنے میں پوری طرح ناکام رہی ہے اور حالات مزید خستہ ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ "موڈیز نے مودی کے ذریعہ ہندوستانی معیشت کو سنبھالنے کو کباڑ (جنک) والی ریٹنگ سے ایک قدم اوپر رکھا ہے۔ غریبوں اور ایم ایس ایم ای سیکٹر کو حمایت کی کمی کا مطلب ہے کہ ابھی حالات مزید خراب ہونے والے ہیں۔"

واضح رہے کہ 20-2019 کی آخری سہ ماہی میں ہندوستان کی جی ڈی پی شرح ترقی محض 3.1 فیصد ہی رہی ہے، جو گزشتہ 8 سالوں میں سب سے کم ہے۔ موڈیز نے موجودہ مالی سال میں بھی جی ڈی پی میں 4 فیصد کی گراوٹ کی بات کہی ہے۔ موڈیز کا کہنا ہے کہ مارچ سے لے کر مئی تک لاک ڈاؤن جاری رہنے کے سبب یہ حالات پیدا ہوئے ہیں۔ موڈیز سے پہلے فچ اور اسٹینڈرڈ اینڈ پور نے بھی ہندوستان کی ریٹنگ میں کمی کی ہے اور اسے بی بی بی کر دیا ہے۔

اس درمیان انڈیا ریٹنگ کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے پیکیج سے معیشت کو رفتار ملنا مشکل لگ رہا ہے۔ ایجنسی کے مطابق 23-2022 سے پہلے معاشی ترقی میں اضافہ ہونے کے آثار نظر نہیں آتے۔ ایجنسی نے کہا کہ حکومت نے جو 20 لاکھ کروڑ روپے کا پیکیج جاری کیا ہے، اس میں سے 2.14 لاکھ کروڑ روپے ہی نقد کے طور پر خرچ کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بڑی رقم کریڈٹ گارنٹی اسکیم کے طور پر ہی اعلان کیا گیا ہے، جس کا حکومت پر کوئی مالی بوجھ نہیں پڑنے والا ہے۔

Published: 2 Jun 2020, 3:11 PM