کوٹہ کے سرکاری اسپتال میں حاملہ خواتین کی موت کا معمہ برقرار، ایئر ایمبولینس کے ذریعے جے پور منتقل کرنے کی تیاری

کانگریس کا الزام ہے کہ یہ موت نہیں بلکہ سیدھے طور پر قتل ہے۔ سوال یہ بھی کیا جارہا ہے کہ آخر کار اتنی بڑی واردات ہونے کے باوجود وزیر صحت کو اب تک کوٹہ جاکر حالات کا جائزہ لینے کی فرصت کیوں نہیں ملی؟

موت، علامتی تصویر
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

راجستھان کے کوٹہ شہر کے نیو میڈیکل کالج میں آپریشن کے بعد بچوں کو جنم دینے والی 2 خواتین کی موت اور نصف درجن دیگر حاملہ خواتین کی صحت بگڑنے کا معاملہ اب طول پکڑتا جا رہا ہے۔ اس معاملے میں ریاست کی بھجن لال شرما حکومت جہاں اب ایکشن موڈ میں نظر آرہی ہے، وہیں متاثرہ خاندان لگاتار انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کررہے ہیں۔ اس معاملے پر اپوزیشن جماعتوں نے بھی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ معاملے میں ابھی تک تحقیقاتی رپورٹ حکومت کو نہیں ملی ہے۔ ایسے حالات میں 2 خواتین کی موت اور نصف درجن سے زائد کے گردے فیل ہونے کی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہوسکی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 3 اور 4 مئی کو کوٹہ کے نیو میڈیکل کالج اسپتال میں سیزیرین ڈیلیوری کے بعد کئی خواتین کی طبیعت کافی خراب ہوگئی تھی جن میں سے اب تک 2 خواتین کی موت ہو چکی ہے، جب کہ نصف درجن شدید بیمار ہیں اور اسپتال میں زندگی کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ آپریشن کے بعد ان تمام خواتین میں پیشاب بند ہونے، پلیٹ لیٹس گرنے، بلڈ پریشر لو ہونے اور گردے فیل ہونے جیسی علامات پائی گئیں۔


خواتین کی طبیعت بگڑنے کے باوجود اسپتال نے کرن اور شرین نامی 2 مزید خواتین کی سرجری کردی۔ آپریشن کے بعد انہیں بھی ویسی ہی بیماری ہوگئی اور طبیعت بگڑ گئی۔ شبہ اس بات کا ظاہر کیا جارہا ہے کہ ان سبھی خواتین کو آپریشن کے وقت جو انجیکشن یا ادویات دی گئیں یا تو وہ خراب تھیں یا آپریشن تھیٹر میں انفیکشن پھیل گیا تھا۔ کئی خواتین کی طبیعت خراب ہونے کے بعد ادویات اور انجیکشن کے ساتھ او ٹی کے استعمال پر روک لگا دی گئی ہے۔

اس معاملے میں حکومت نے جے پور کے ایس ایم ایس میڈیکل کالج کے ماہرین کی ایک ٹیم علاج اور دیکھ بھال کے لیے بھیجی ہے تو دوسری ٹیم معاملے کی تحقیقات کے لیے بھیجی ہے۔ تمام خواتین کی حالت ابھی مستحکم ہے۔ دریں اثنا، ریاست کے وزیر صحت گجیندر سنگھ کھمسر نے بیمار خواتین کو ایئر ایمبولینس کے ذریعہ جے پور لے جانے کی تجویز دی لیکن متاثرین کے اہل خانہ نے ہنگامہ کھڑا کر تے ہوئے اس سے انکار کر دیا ہے۔ کوٹہ میڈیکل کالج اسپتال کے باہر متاثرین کے اہل خانہ کا لگاتار ہنگامہ کررہے ہیں۔ وزیر صحت کا دعویٰ ہے کہ ہر ایک کو بہترین علاج مل رہا ہے۔ معاملے کی تحقیقاتی رپورٹ کا انتظار ہے۔ ابتدائی اندازوں کی بنیاد پر متعدد افراد کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ اس معاملے میں کسی بھی مجرم کو بخشا نہیں جائے گا۔


دوسری طرف کانگریس پارٹی نے سابق وزیر صحت پرسادی لال مینا کی قیادت میں اسپتال کا دورہ کیا اور یہاں کے انتظامی نظام پر سنگین سوالات اٹھائے۔ کانگریس کے ریاستی سکریٹری پشپندر بھاردواج نے متاثرین کے لیے مناسب معاوضہ کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ یہ موت نہیں بلکہ سیدھے طور پر قتل ہے۔ سوال یہ بھی کیا جارہا ہے کہ آخر کار اتنی بڑی واردات ہونے کے باوجود وزیرصحت کھمسر کو ابھی تک کوٹہ جاکر حالات کا جائزہ لینے کی فرصت کیوں نہیں ملی؟ اس معاملے میں متوفی جیوتی کے اہل خانہ نے اسپتال انتظامیہ پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قصوروار پائے جانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اس معاملے میں فوجداری مقدمہ بھی درج ہونا چاہیے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا اس کی منصفانہ تحقیقات کر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی یا چند دنوں کے بعد کیس ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا جائے گا۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔