میانمار کی فوج نے گاؤں کے لوگوں پر حملے کے لیے ہیلی کاپٹر گن شپ کا استعمال کیا

پانچ ہیلی کاپٹر تبائین کے مشرقی جانب نیانگ ہلا گاؤں کے آس پاس ہفتے کے روز پہنچے اور تقریباً 300 فوجیوں نے دیہات پر فضائی حملے شروع کر دیئے۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

یو این آئی

ناپیتا: میانمار کی فوج نے گن شپ ہیلی کاپٹروں کا استعمال ساگانگ علاقے کے گاؤں پر بمباری کے لیے کیا ہے۔ لوگوں کو ڈرانے کی اس کوشش میں جگہ جگہ چھاپے مارے گئے اور توپ خانے کا بھی استعمال کیا گیا۔ ’میانمار ناؤ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، پانچ ہیلی کاپٹر تبائین کے مشرقی جانب نیانگ ہلا گاؤں کے آس پاس ہفتے کے روز پہنچے اور تقریباً 300 فوجیوں نے دیہات پر فضائی حملے شروع کر دیئے۔ اس سے خوفزدہ ہو کر، نیانگ ہلا کے 5,000 باشندوں میں سے زیادہ تر بھاگ گئے۔

مقامی لوگوں نے تصدیق کی ہے کہ فضائی حملے میں سات افراد مارے گئے جن میں سے چھ نیانگ ہلا سے اور ایک تھیٹن گاؤں سے تھا۔ دریں اثنا، پیر کو تقریباً 50 جنتا جوانوں نے انپن گاؤں پر چھاپہ مارا تھا۔ میانمار ناؤ نے ایک مقامی کے حوالے سے بتایا کہ تقریباً 150 فوجیوں نے انبوک اور انگن پن گاؤں میں طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 11 جھونپڑیوں کو آگ لگا دی۔ دسیوں ہزار لوگ تبائین کے دس دیہات: نیانگ ہلا، سیگیتاو، تھائیتاو، مکتاوین، میوئی، لیٹیٹکون، ویگی، نامیار، ینکن اور امپین سے ہفتہ کے روز سے فرار ہو چکے ہیں۔


سال 2020 میں ریاستی کونسلر ڈاؤ آنگ سان سوچی نے بڑے مارجن سے الیکشن جیتا تھا لیکن فوج نے انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ یکم فروری کو یہاں فوجی بغاوت کے بعد سے اب تک ایک ہزار سے زیادہ شہری مارے جا چکے ہیں اور یہی مسلح بغاوت کی وجہ بھی بنی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ساگانگ ان علاقوں میں سے ایک ہے جس نے سب سے پہلے جنٹا فوجی حکمرانی کے خلاف بغاوت شروع کی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔