جب تک پولیس معافی نہیں مانگتی تحریک جاری رہے گی، ڈاکٹروں کا اعلان

نیٹ پی جی کاؤنسلنگ میں تاخیر کے خلاف احتجاج کر رہے ریزیڈنٹ ڈاکٹروں نے تین مطالبات کئے ہیں، ڈاکٹروں کی تنظیم نے ایک بیان جاری کر کے بتایا کہ جب تک ان کے مطالبات قبول نہیں کیے جاتے تحریک جاری رہے گی

دہلی میں ریزیڈنٹ ڈاکٹر احتجاج کرتے ہوئے، تصویر ویپن
دہلی میں ریزیڈنٹ ڈاکٹر احتجاج کرتے ہوئے، تصویر ویپن
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: نیٹ پی جی کاؤنسلنگ میں ہو رہی تاخیر کے خلاف احتجاج کر رہے ریزیڈنٹ ڈاکٹروں نے سخت موقف اختیار کر لیا ہے۔ فیڈریشن آف ریزیڈنٹ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (فورڈا) کے بینر تلے ہو رہے اس احتجاج کو اس وقت تک جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے جب تک دہلی پولیس کی جانب سے پیر کے روز پیش آنے والے واقعہ پر معافی نہیں مانگ لی جاتی۔

فورڈا نے بدھ کے روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ آج تحریک کو 13 دن مکمل ہو چکے ہیں اور تاحال نیٹ پی جی کاؤنسلنگ میں تیزی لانے اور ڈاکٹروں کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لینے کے ہمارے مطالبات قبول نہیں کئے گئے ہیں، لہذا ہم نے اپنی تحریک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔


دریں اثنا، بدھ کے روز سپریم کورٹ میں ایک عرضی بھی دائر کی گئی ہے جس میں نیٹ پی جی میں داخلہ کے حوالہ سے ای ڈبلیو ایس (اقتصادی طور پر کمزور طبقات) سے وابستہ معاملہ میں سماعت کو آگے بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ فورڈا کے نمائندگان اور وزارت صحت کے عہدیداران نے منگل کے روز ایک میٹنگ کی۔ اس میٹنگ میں مرکزی وزیر منسکھ منڈاویا بھی موجود تھے، تاہم اس میٹنگ کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور معاملہ حل نہیں ہو سکا۔

انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن (آئی ایم اے) بھی وزیر اعظم مودی کے نام مکتوب ارسال کرتے ہوئے اس معاملہ کو حل کرنے کی اپیل کر چکی ہے۔ اس مکتوب میں کہا گیا تھا کہ نیٹ پی جی کا امتحان جنوری 2021 کو ہونا تھا لیکن کورونا کے سبب اسے ستمبر میں کرایا گیا اور کاؤنسلنگ ابھی تک نہیں کرائی جا سکی۔ تاہم کاؤنسلنگ میں تاخیر اس لئے ہو رہی ہے کیونکہ معاملہ سپریم کورٹ میں چلا گیا ہے۔ اس کے نتیجہ میں ملک بھر میں 45 ہزار ڈاکٹروں کی کمی واقع ہو گئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔