مودی کی مقبولیت جتنی بڑھے گی، موب لنچنگ میں اتنا ہی اضافہ ہوگا: بی جے پی وزیر

مودی حکومت میں وزیر ارجن رام میگھوال نے راجستھان میں ہوئے تازہ موب لنچنگ کے واقعہ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی بڑھتی شہرت کو ہی اس کا ذمہ دار قرار دے دیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

راجستھان کے الور ضلع میں گائے اسمگلنگ کے الزام میں بھیڑ کے ذریعہ ایک شخص کا پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا گیا اور مودی حکومت کے ایک وزیر اس پر متنازعہ بیان دینے سے باز نہیں آئے۔ مرکزی وزیر اور راجستھان کے سینئر بی جے پی لیڈر ارجن رام میگھوال نے کہا کہ مودی جی جتنا مشہور ہوتے جائیں گے، موب لنچنگ کے واقعات اتنے ہی زیادہ بڑھتے جائیں گے۔ اپنے بیان میں میگھوال نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’مودی جی جتنا مشہور ہوں گے، اس طرح کے واقعات اتنے بڑھیں گے۔ آپ کو اس کی تاریخ دیکھنی پڑے گی کہ ایسے واقعات کیوں ہو رہے ہیں۔ بہار انتخاب کے دوران یہ ’ایوارڈ واپسی‘ تھا، یو پی انتخاب کے وقت یہ موب لنچنگ تھا اور 2019 کے انتخاب میں یہ کچھ اور ہوگا۔ مودی جی نے منصوبے دیے ہیں اور اس کا اثر نظر آ رہا ہے، یہ اس کا ہی ایک رد عمل ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں: راجستھان: گائے اسمگلنگ کے شک میں گئی ایک اور جان، اکبر موب لنچنگ کا شکار

مرکز کی مودی حکومت میں پارلیمانی امور اور آبی وسائل کے ریاستی وزیر میگھوال راجستھان کے الور ضلع کے رام گڑھ میں جمعہ کی رات گائے اسمگلنگ کے شک میں بھیڑ کے ذریعہ اکبر خان نام کے ایک شخص کا پیٹ پیٹ کر قتل کیے جانے پر اپنے رد عمل کا اظہار کر رہے تھے۔ میگھوال نے اس تشدد کی مذمت ضرور کی لیکن ساتھ ہی موب لنچنگ پر کئی سوال بھی کھڑے کیے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم موب لنچنگ کی مذمت کرتے ہیں لیکن یہ واحد ایسا واقعہ نہیں ہے۔ آپ کو تاریخ میں جانا پڑے گا، کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اسے کسے روکنا چاہیے؟ 1984 میں سکھوں کے ساتھ جو ہوا وہ اس ملک کی تاریخ میں سب سے بڑا موب لنچنگ تھا۔‘‘

دوسری طرف جمعہ کے روز اس واقعہ پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے راجستھان کی وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے نے مذمت کی ہے۔ انھوں نے ٹوئٹ کر کے کہا کہ ’’الور میں گائے اسمگلنگ سے متعلق واقعہ میں ہوئے قتل کی میں سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہوں۔ پولس معاملہ درج کر کے دو مشتبہ لوگوں سے پوچھ تاچھ کر رہی ہے۔ میں نے وزیر داخلہ کو جلد سے جلد معاملے کی تفتیش کر کے قصورواروں کو سخت سزا دلانے کی ہدایت دی ہے۔‘‘

ریاست کے وزیر داخلہ گلاب چند کٹاری نے اس واقعہ پر اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں سخت کارروائی کی جائے گی۔ لیکن موب لنچنگ کے واقعات کو روکنے کے لیے قانون بنانے کے مطالبے پر انھوں نے کہا کہ ’’ایسی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ اگر سزائے موت کا قانون بن جائے تو کل سے قتل نہیں ہوں گے۔‘‘ غور طلب ہے کہ راجستھان کے الور ضلع میں ہی گزشتہ سال پہلو خان نام کے ایک شخص کی گائے اسمگلنگ کا الزام لگا کر بھیڑ نے خوب پٹائی کی تھی جس کی وجہ سے اسپتال میں اس کی موت واقع ہو گئی تھی۔

next