حکومت اپنے ترجمانوں کو میدان میں اتار کر ہر جھوٹ کو سچ بتانے کی کوشش کرتی ہے، یہ غلط ہے: کانگریس

راجیو شکلا کا کہنا ہے کہ حکومت کو سپلیمنٹری یا ریوائزڈ بجٹ پیش کرنا چاہیے، کیونکہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ بجٹ آنے کے بعد ہوا ہے، اس سے ہمارا بوجھ بڑھ جائے گا۔

<div class="paragraphs"><p>راجیو شکلا، ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

پارلیمنٹ میں بجٹ پر جاری بحث کے درمیان راجیہ سبھا میں کانگریس کے سینئر لیڈر راجیو شکلا نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سپلیمنٹری یا ریوائزڈ بجٹ لائے۔ انھوں نے ایوانِ بالا میں بجٹ پر اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ’’ملک کی حکومت نے جو بجٹ پیش کیا ہے، اس میں ایسا کچھ ہے ہی نہیں جس کی تعریف کی جا سکے۔ اس لیے حکومت کو سپلیمنٹری یا ریوائزڈ بجٹ پیش کرنا چاہیے، کیونکہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ بجٹ آنے کے بعد ہوا ہے، جس کے بعد ہمارا بوجھ بڑھ جائے گا۔‘‘

راجیو شکلا نے امریکہ کے ساتھ ہوئے تجارتی معاہدہ کی خامیوں کا ذکر بھی ایوانِ بالا میں کیا اور ساتھ ہی یہ الزام بھی عائد کیا کہ برسراقتدار طبقہ کے لیڈران جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی کوشش میں ہمیشہ فعال رہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’حکومت اپنے ترجمانوں کو لگا کر ہر جھوٹ کو سچ بتانے کی کوشش کرتی ہے، جو کہ غلط ہے۔ آخر یہ کیسی ڈیل ہے جہاں امریکہ پر 0 فیصد ٹیرف ہے اور ہندوستان پر 18 فیصد ٹیرف ہے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’آج ماہرین معیشت بھی لکھ رہے ہیں کہ یہ معاہدہ امریکہ کو ہی فائدہ دے گا۔‘‘


کانگریس رکن پارلیمنٹ نے اس بات پر حیرانی ظاہر کی کہ ایک طرف تو ایسا تجارتی معاہدہ ہوا ہے جس میں امریکہ کا ہی فائدہ ہے، اور دوسری طرف امریکہ ہمیں دھمکا بھی رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’امریکہ کے ذریعہ دھمکایا جا رہا ہے کہ ہم نگرانی کر رہے ہیں، اگر ہندوستان نے روس سے تیل خریدا تو پنالٹی لگائیں گے۔ ساتھ ہی وینزویلا سے تیل خریدنے کی بات کہی جا رہی ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’یہ معاہدہ کسانوں کے ساتھ بھی دھوکہ ہے۔‘‘

راجیو شکلا نے ایوانِ بالا میں اپنی تقریر کے دوران اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ انھیں کسی سوال کا جواب چاہیے ہوتا ہے تو مرکزی وزراء کا رویہ ٹال مٹول والا ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’اس ٹریڈ ڈیل (ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ) کے بارے میں وزیر برائے کامرس سے پوچھو تو وہ کہتے ہیں ’وزیر خارجہ سے پوچھو‘، اور اگر وزیر خارجہ سے پوچھو تو وہ کہتے ہیں ’وزیر برائے کامرس سے پوچھو‘۔ آخر کس سے پوچھیں؟‘‘