حکومت جرات مندانہ فیصلہ کر کے خانگی اسپتالوں کو اپنے کنٹرول میں لے: رئیس شیخ

وبائی دور میں مختلف امراض کے شکار افراد اور بطور خاص کورونا سے متاثرہ مریضوں کو مدد فراہم کرنے اور ان کا علاج معالجہ کر کے انھیں شفایاب کرنے کے بجائے یہ اسپتال اب لوٹ مچانے پر تلے ہوئے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

ممبئی: کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے اثرات اور لگاتار مصدقہ مریضوں کی تعداد میں اضافے کے سبب جہاں ایک طرف عوام کو مختلف نوعیت کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہیں حکومت اور انتظامیہ عوام کو راحت بہم پہنچانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ لیکن اس ضمن میں پیش آ رہی مختلف رکاوٹوں اور سہولتوں کی کمی کے باعث اس میں ناکامی ہو رہی ہے۔

دوسری طرف اس سلسلے کی ایک اہم کڑی "اسپتال" اپنی من مانی پر اتر آئے ہیں۔ اس وبائی دور میں مختلف امراض کے شکار افراد اور بطور خاص کورونا سے متاثرہ مریضوں کو مدد فراہم کرنے اور ان کا علاج معالجہ کر کے انھیں شفایاب کرنے کے بجائے یہ اسپتال اب "لوٹ مچانے" پر تلے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

انھیں جہاں انسانی ہمدردی اور غمگساری کا ایک بہترین نمونہ بن کر دینا کو یہ دکھانا چاہیے تھا کہ انسان دوست کیسے ہوتے ہیں، مگر افسوس، اس کے برخلاف مادہ پرستی کی انتہا پر جا کر یہ لوگ اپنا جو چہرا عوام کو دیکھا رہے ہیں اور ان کی جو شبیہ عوام کے سامنے آ رہی ہے ، وہ لوگوں کے دلوں میں ان کے عزت و وقار کو مٹا کر ان کے خلاف نفرت کے جذبات کو پروان چڑھا رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں اسپتالوں کی جانب سے عوام کو پہنچنے والے زخم انسانیت کو شرمسار کرنے والے اور ایسے کاری ہیں کہ برسوں انھیں بھلایا نہیں جاسکے گا۔

اپنے فرائض منصبی سے مجرمانہ غلفت برتنے والی یہ مشالیں کبھی فراموش نہیں کی جاسکیں گی۔ کورونا کو قابو میں کرنے کے لیے حکومت اپنی سی کوشش کر رہی ہے، مگر عوام کےساتھ لوٹ مچانے اور من مانے طریقوں سے بیمار مریضوں کو تکلیف پہنچانے،علاج کے لیے تڑپتے ہوئے مریضوں کو یونہی بےحال، بے بس مرنے کے لیے چھوڑنے والے ان اسپتالوں اور ڈاکٹروں کے خلاف کوئی شکنجہ کیوں نہیں کس رہی ہے۔ یہ سوال اب بڑے پیمانے پر عوام میں گردش کر رہا ہے۔ اور لوگوں کی بے چینی بڑھ رہی ہے۔

اسی ضمن میں سماج وادی پارٹی کے بھونڈی کے رکن اسمبلی اور ممبئی میونسپل کارپوریشن کے کارپوریٹر رئیس شخ نے بھی مہاراشٹرا کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو ایک خط لکھ کر ان کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے کہ کس طرح ممبئی کے خانگی اسپتال اپنی من مانی چلا رہے ہیں اور علاج کے لیے آنے والے ضرورتمندوں سے بڑی بڑی رقومات وصول کر رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ ہی انھوں نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ فوری ان اسپتالوں کو حکومت انپے کنٹرول میں لے۔

انھوں نے یو این ائی کو تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ممبئی اور مضافات میں علاج کی سہولتوں کے فقدان، آکسیجن اور انتہائی نگہداشت یونٹوں (آئی سی یو) کی عدم دستیابی کے باعث عوام موت سے ہمکنار ہو رہے ہیں۔ کووڈ-19 مریضوں کے علاج کے لیے خانگی اسپتال اور انتہائی نگہداشت یونٹوں کے لیے 60 ہزار سے ایک لاکھ روپیے یومیہ وصول کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں ان اسپتالوں نے دیگر امراض کے علاج معالجہ کی فیس میں بھی دو تین گناہ اضافہ کر دیا ہے۔

رئیس شیخ نے سوال اٹھایا ہے کہ چیریٹیبل ایکٹ کے تحت قائم کیے گئے یہ اسپتال جو زیادہ تر سرکاری زمینوں پر بنے ہیں اور ٹیکسوں میں بھی بھاری چھوٹ حاصل کرتے ہیں کیا انھیں اسی لیے یہ سہولتیں فراہم کی گئی ہیں؟۔ ان اسپتالوں کی جانب سے مچائی جا رہی لوٹ کے لیے رئیس شیخ نے حکومت کو ذمہ دار ٹھراتے ہوئے کہا کہ ان اسپتالوں میں کووڈ-19 اور غیر کووڈ مریضوں کے علاج کے لیے حکومت نے کوئی فیس طے نہیں کی ہے جس کی وجہ سے یہ سب ہو رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ملک کی ایک درجن سے زائد ریاستوں نے خانگی اسپتالوں کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے اور ممبئی جیسے شہر میں جہاں بھارت بھر میں سب سے زیادہ کورونا کے مریض پائے جاتے ہیں وہاں خانگی اسپتالوں کے صرف 100 بستر ہی دستیاب ہیں۔" ہم کب تک صرف غوروفکر کرتے رہیں گے" اب ان خانگی اسپتالوں کو حکومت کو اپنے قبضے میں لینا چاہیے۔ ممبئی میں بنائے جا رہے عارضی اسپتالوں کے بارے میں انھوں نےکہا کہ یہ کوئی مناسب منصوبہ بندی نہیں ہے۔ ممبئی میں جلد ہی بارش شروع ہوگی۔ اس کے بعد یہ کسی کام نہیں آئیں گے۔ اس لے حکومت جلد ہی جرات مندانہ فیصلہ کرے اور ان اسپتالوں کو اپنے قبضے میں لیکر عوام کو راحت بہم پہنچانے کے لیے عملی اقدام کرے۔

next