سیاسی مخالفین کے خلاف سرکاری اداروں کا استعمال کر رہی ہے حکومت: سونیا گاندھی

کانگریس صدر سونیا گاندھی نے شہریت ترمیمی قانون یعنی سی اے اے مخالف مظاہروں کا بھی ذکر کیا اور تحریر کیا کہ بی جے پی حکومت نے ان مظاہروں کو بھی ہندوستان مخالف مظاہروں کی شکل میں پیش کرنے کی کوشش کی۔

سونیا گاندھی
سونیا گاندھی
user

قومی آوازبیورو

کانگریس صدر سونیا گاندھی کا ایک مضمون انگریزی روزنامہ میں شائع ہوا ہے۔ اس مضمون میں کانگریس صدر نے ملک کو درپیش مسائل پر تفصیل سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے تحریر کیا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت آج ایک دو راہے پر کھڑی ہے۔ ملک کی معیشت گہرے بحران کا شکار ہے۔ انہوں تحریرکیا کہ سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ جمہوری نظام کے تمام ستون حملہ کے زد میں ہیں۔ اظہار رائے کی آزادی کو منظم انداز میں ختم کر دیا گیا ہے۔ اختلاف رائے کو دہشت گردی اور ملک دشمنی قرار دیا جانے لگا ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ شہریوں کے حقوق والے بہت سارے قوانین کو ختم کر دیا گیا ہے۔

سونیا گاندھی نے مرکز پر سخت حملہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حکومت اب حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے پورے ملک میں قومی سلامتی کے خطرہ کا شور مچانے لگتی ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ کچھ خطرات ہیں اور ان سے لڑنا ضروری ہے لیکن مودی حکومت اور بی جے پی ان خطرات کو ایسے پیش کرتی ہے جیسے ان سب کے پیچھے حزب اختلاف ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ حکومت اختلاف رائے رکھنے والوں کے پیچھے تفتیشی ایجنسیوں کے ساتھ میڈیا کے ایک طبقہ اور ٹرول فیکٹری کو لگا دیتی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ہندوستان کو بہت جدو جہد کے بعد حاصل ہونے والی جمہوریت کو کھوکلا کیا جا رہا ہے۔

سونیا گاندھی نے موجودہ صورتحال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ حکومت حزب اختلاف کو نشانہ بنانے کےلئے سرکار کے ہر ادارے کو استعمال کر رہی ہے، چاہے وہ پولیس ہو، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، سی بی آئی، این آئی اے ہو یا نارکوٹکس بیورو ہو۔ انہوں نے کہا کہ آج یہ ایجنسیاں وزیر اعظم کے دفتر کے اشارے پر ناچتی ہیں۔ سونیا گاندھی نے لکھا ہے کہ حکومت کو ہمیشہ آئینی ضابطوں پر عمل کرنا چاہیے اور جمہوری روایات کا احترام کرنا چاہیے۔

مودی حکومت کے پہلے پانچ سال کے اقتدار کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس صدر نے لکھا کہ حکومت نے اپنے تمام مخالفین کو ایسے پیش کیا جیسے وہ ملک کے دشمن ہوں۔ انہوں تحریر کیا کہ سال 2016 میں یہ سب اس وقت شروع ہوا جب ہندوستان کے معروف تعلیمی ادارے (جواہر لال نہرو یونیورسٹی) کے نوجون طلباء کے خلاف غداری کے مقدمات عائد کر دیئے گئے۔ کیونکہ ان نوجوانوں نے جو موقف اختیار کیا تھا وہ حکومت کے موقف سے میل نہیں کھاتے تھے۔ سونیا گاندھی نے لکھا کہ رائے میں اختلاف ہونا ہی تو اصل جمہوریت ہے۔ کانگریس صدر اس اختلاف رائے کا ذکر کرتے ہوئے شہریت ترمیمی قانون یعنی سی اے اے مخالف مظاہروں کا بھی ذکر کیا اور تحریر کیا کہ بی جے پی حکومت نے ان مظاہروں کو بھی ہندوستان مخالف مظاہروں کی شکل میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے لکھا کہ حکومت نے ان مظاہروں کو ہندوستان کےخلاف سازش قرار دیتے ہوئے پورے ملک میں 700 ایف آئی آر درج کیں اور سینکڑوں لوگوں سے پولیس نے پوچھ تاچھ کی اور درجنوں کو گرفتار کیا۔ انہوں نے تحریر کیا کہ ان لوگوں کو ملک سے سازش رچنے والا سمجھنا اور فرقہ وارنہ تشدد کو فروغ دینا جمہویرت کے لئے بہت نقصان دہ ہے۔

کانگریس صدر سونیا گاندھی نےاپنے مضمون میں ہاتھرس معاملہ کی سخت الفاظ میں تنقید کی۔ انہوں نے ہاتھرس پر حکومت اور پولیس کے رویہ کی تنقید کرتے ہوئے یاد دلایا کہ مرکز کی یو پی اے حکومت نے نربھایا معاملہ میں کس طرح کام کیا تھا۔ سونیا گاندھی نے تحریر کیا کہ جس طرح آزادی اور اظہار آزادی کے بنیادی اصولوں کو ختم کیا جارہا ہے وہ سیاست اور سماج کو زہر آلودہ کر دیتا ہے۔

کانگریس صدر سونیاگاندھی نے تحریر کیا کہ جو شہری اس پارٹی کو ووٹ دیتا ہے اور وہ انتخابات میں ہار جاتی ہے تو اس سے اس شہری کی شہریت ختم نہیں ہو جاتی۔ انہوں لکھا کہ وزیر اعظم مستقل دعوی کرتے ہیں کہ وہ ہندوستان کے 130 کروڑ ہندوستانیوں کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن یہ حکومت اور بر سر اقتدار سیاسی جماعت اپنے سیاسی مخالفین، اختلاف رائے رکھنے والوں اور دوسری سیاسی جماعت کو ووٹ دینے والوں کے ساتھ بغیر جمہوری حقوق والے دوسرے درجہ کے شہری کی طرح برتاؤ کرتی ہے۔ حکومت ان کی خدمت کے لئے ہے نہ کہ ان کو بدنام کرنے کے لئے۔ انہوں نے تحریر کیا کہ یہ ملک جبھی ترقی کرے گا جب آئین میں دیئے گئے جمہوری اصولوں پر عمل کیا جائے گا۔

Published: 26 Oct 2020, 2:11 PM
next