زرعی قانون کے خلاف وجے دشمی پر پی ایم مودی، اڈانی اور امبانی کا کسانوں نے جلایا مجسمہ

کسانوں نے مرکزی حکومت سے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ناراض کسانوں نے وجے دشمی کے موقع پر پی ایم مودی، اڈانی اور امبانی کے مجسمے کو نذر آتش کیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

زرعی قوانین کے خلاف پنجاب میں وجے دشمی کے موقع پر کسانوں کے ذریعہ وزیر اعظم مودی، اڈانی اور امبانی کے مجسموں کو نذر آتش کرنے کے بارے میں ایک رپورٹ شیئر کرتے ہوئے کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے کہا کہ "یہ کل پورے پنجاب میں ہوا۔ یہ افسوسناک ہے کہ پنجاب کے عوام وزیر اعظم کے خلاف اس قدر ناراضگی محسوس کر رہے ہیں۔ یہ ایک بہت ہی خطرناک مثال ہے اور ہمارے ملک کے لئے برا ہے۔ وزیر اعظم مودی کو فوری طور پر کسانوں سے رابطہ کرنا چاہیے اور ان کی بات سننی چاہیے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ پنجاب سمیت ملک کے بیشتر حصوں میں زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کا احتجاج جاری ہے۔ کسانوں نے مرکزی حکومت سے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ناراض کسانوں نے وجے دشمی کے موقع پر پنجاب کے کلیاں والی منڈی میں وزیر اعظم مودی، صنعتکار گوتم اڈانی اور مکیش امبانی کا 20 فٹ کا مجسمہ نذر آتش کیا۔ اس دوران کسانوں کے ساتھ خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ نیا زرعی قانون کاشتکاروں کے ساتھ ساتھ دیگر طبقات کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔ کسانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس قانون سے دکانداروں، تاجروں اور متوسط ​​طبقے کے لوگوں کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کاشتکاروں نے کہا کہ اس نئے زرعی قانون میں ایم ایس پی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے مودی حکومت کی نیت کے بارے میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ کسانوںکا کہنا ہے کہ جب تک مرکز ان زرعی قوانین کو واپس نہیں لے گا اس وقت تک ان کا احتجاج جاری رہے گا، وہ پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔

next