’راہل گاندھی کے انکشافات سے حکومت بوکھلا گئی ہے‘، جے رام رمیش نے این ٹی اے اور تعلیمی نظام پر اٹھائے سوال
جے رام رمیش نے کہا کہ ’’حکومت کی بوکھلاہٹ بڑھتی جا رہی ہے۔ جے پی نڈا کو اس بچکانہ الزام تراشی کی سیاست سے آگے بڑھ کر پہلے وزیر تعلیم پردھان اور وزیرِ اعظم کی غیر معمولی ناکامیوں کو تسلیم کرنا چاہیے۔‘‘

کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے نیٹ معاملے پر مرکزی وزیرِ صحت جے پی نڈا کی پریس کانفرنس کے بعد سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ جے رام رمیش نے جمعرات کے روز ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’مرکزی وزیرِ صحت اور بی جے پی کے سابق صدر جے پی نڈا کی جانب سے دیر شام منعقد کی گئی پریس کانفرنس راہل گاندھی کے انکشافات کے جواب میں کی گئی۔ یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ حکومت کی بوکھلاہٹ مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ جے پی نڈا کو اس بچکانہ الزام تراشی کی سیاست سے آگے بڑھ کر پہلے وزیر پردھان اور وزیرِ اعظم کی غیر معمولی ناکامیوں کو تسلیم کرنا چاہیے۔‘‘ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’این ٹی اے کا قیام موجودہ حکومت نے خاص طور پر امتحانات کے انعقاد کے لیے کیا تھا۔ حکومت نے قصداً امتحانی نظام کو مرکزیت دی، اسے این ٹی اے کے ذریعے کرایا اور یونیورسٹیوں اور ریاستوں پر اسے اپنانے کے لیے دباؤ ڈالا۔ پہلے سے موجود نظام کو ختم کرکے این ٹی اے قائم کیا گیا۔ اس کے بعد این ٹی اے مکمل طور پر کمپرمائزڈ ثابت ہوئی اور اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں پوری طرح ناکام رہی ہے۔‘‘
کانگریس راجیہ سبھا رکن نے کہا کہ ’’این ٹی اے کے قیام کے بعد سے اب تک کم از کم 9 مرتبہ پیپر لیک ہوئے ہیں۔ ان میں 2024 کے وہ واقعات بھی شامل ہیں، جب بے ضابطگیوں کی وجہ سے این ٹی اے کو کئی امتحانات منسوخ کرنے پڑے تھے۔ 2024 کی بڑی ناکامی کے بعد وزیر پردھان نے این ٹی اے میں اصلاحات کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے لیے ’کے رادھا کرشنن کمیٹی‘ تشکیل دی گئی، جس نے این ٹی اے میں اصلاحات کے لیے 101 سفارشات پیش کیں۔ لیکن اصلاحات کو سنجیدگی سے نافذ کرنے کے بجائے وزیر پردھان ٹال مٹول کرتے رہے اور انہوں نے ناقابلِ یقین حد تک اطمینان اور غرور کا مظاہرہ کیا۔‘‘ جے رام رمیش نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ’’این ٹی اے میں ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ سب سے اہم انتظامی عہدہ ہے، 2024 کے پیپر لیک سے لے کر 2026 کے پیپر لیک تک پورے عرصے میں اضافی چارج کے طور پر ہی افسران کے پاس رہا۔ نتیجتاً این ٹی اے کی نگرانی میں نیٹ- یو جی 2026 کا ایک اور پیپر لیک ہوا اور امتحان منسوخ کرنا پڑا۔ یہاں تک کہ اس صورتِ حال میں بھی این ٹی اے اور محکمۂ اعلیٰ تعلیم نے پارلیمنٹ کی تعلیم سے متعلق قائمہ کمیٹی کے سامنے بے شرمی سے دعویٰ کیا کہ کوئی پیپر لیک نہیں ہوا تھا۔ وزیر پردھان کے لیے سچائی سے زیادہ اپنی شبیہ اہم تھی۔‘‘
کانگریس لیڈر نے یہ بھی کہا کہ ’’ہمیشہ کی طرح متکبر وزیر پردھان نے پارلیمنٹ اور اس کی دانشمندانہ تجاویز کے تئیں اپنی مکمل بے اعتنائی ظاہر کرتے ہوئے صرف اس لیے تعلیمی قائمہ کمیٹی کی این ٹی اے کو مضبوط بنانے والی سفارشات کو مسترد کر دیا، کیونکہ اس کمیٹی میں اپوزیشن کے ارکان بھی شامل تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ملک بھر میں شدید غصے کے باوجود بھی این ٹی اے کے تحت منعقد ہونے والے یو جی سی- نیٹ سوشیالوجی 2026 امتحان کے پیپر لیک اور یو جی سی- نیٹ انگریزی 2026 امتحان میں بے ضابطگیوں کی خبریں سامنے آئیں۔‘‘ کانگریس رکنِ پارلیمنٹ نے الزام لگایا کہ ’’جب طلبہ پیپر لیک اور مودی حکومت کی تعلیمی پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر اترے تو وزیرِ اعظم اور ان کے ساتھی وزیر پردھان نے طلبہ مظاہرین کے خلاف غیر معمولی بربریت کا مظاہرہ کیا۔ ان کے خلاف لاٹھی چارج، واٹر کینن، آنسو گیس، اور خبروں کے مطابق پیلٹ گن اور شاک بیٹن تک استعمال کیے گئے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’نیٹ- یو جی 2026 کا پیپر لیک صرف ایک ہدف ہے، بیماری اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ ملک کے طلبہ کا غصہ وزیر پردھان کی نااہلی، مودی حکومت کی انتہائی خراب تعلیمی پالیسیوں اور وزیرِ اعظم کے غرور کے خلاف ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
