پانچ اراکین پر مشتمل ’حد بندی کمیشن‘ سری نگر پہنچا

کمیشن کو امید ہے کہ تمام فریق اس عمل میں تعاون کریں گے اور گراں قدر مشوروں سے آگاہ کرائیں گے تاکہ از سر نو حد بندی کا کام بروقت مکمل کیا جا سکے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

سری نگر: پانچ رکنی حد بندی کمیشن منگل کی دوپہر کو کمیشن کی سربراہ جسٹس (آر) رنجانا پرکاش ڈیسائی کی قیادت میں سری نگر پہنچ گیا کمیش میں چیف الیکشن کمشنر سشیل چندر اور جموں و کشمیر کے سٹیٹ الیکٹورل افسر کے کے شرما بھی شامل ہیں، حد بندی کمیشن جموں و کشمیر کے اپنے چار روزہ دورے کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں کے وفود کے علاوہ یونین ٹریٹری کے سبھی بیس اضلاع کے الیکشن افسروں سے بھی ملاقات کرے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ جسٹس رنجانا ڈیسائی کی سربراہی میں حد بندی کمیشن منگل کی دوپہر کو سری نگر پہنچ گیا ہے۔ انہوں بتایا کہ سری نگر پہنچتے ہی کمیشن سیدھے للت ہوٹل پہنچ گیا جہاں وہ مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے ملاقی ہوگا۔

بتا دیں کہ حد بندی کمیشن ضلع اننت ناگ، کولگام، پلوامہ اور شوپیاں کے ضلع الیکشن افسروں کے ساتھ 7 جولائی کو بارہ بجے سے ڈیڑھ بجے تک پہلگام کلب، پہلگام میں ملاقات کرے گا جبکہ اسی روز شام کے چار سے ساڑھے پانچ بجے تک ضلع سری نگر، گاندربل، بڈگام اور بانڈی پورہ کے ضلع الیکشن افسروں کے ساتھ ملاقات کرے گا۔


صوبہ جموں میں یہ کمیشن ضلع کشتواڑ، ڈوڈہ اور رام بن کے ضلع الیکشن افسروں سے 8 جولائی کو صبح گیارہ بجے سے ساڑھے بارہ بجے تک پی ڈبلیو ڈی گیسٹ ہاؤس کشتواڑ میں ملے گا جبکہ ضلع جموں، سانبہ، کٹھوعہ، اودھم پور، ریاسی، راجوری اور پونچھ کے ضلع الیکشن افسروں کے ساتھ 9 جولائی کو صبح کے گیارہ بجے سے ساڑھے بارہ بجے تک ریڈیسن بلو جموں میں ملاقات کرے گا۔

ادھر جہاں جموں کشمیر کی سب سے بڑی سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس نے اس کمیشن کو ملنے کا فیصلہ لیا ہے وہیں پی ڈی پی نے کمیشن کے نام ایک مکتوب جاری کر کے اس کمیشن سے دور رہنے کا فیصلہ لیا ہے۔ حد بندی کمیشن کا قیام مارچ 2020 میں کیا گیا تھا اور مارچ 2021 میں عالمی وبا کے تناظر میں اس کی مدت میں ایک سال کی توسیع کی گئی تھی۔ کمیشن کو امید ہے کہ تمام فریق اس عمل میں تعاون کریں گے اور گراں قدر مشوروں سے آگاہ کرائیں گے تاکہ از سر نو حد بندی کا کام بروقت مکمل کیا جا سکے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔