کورونا سے جان گنوانے والوں کے اہل خانہ کو 4 لاکھ کا معاوضہ دینا ہوگا، راہل گاندھی کا مطالبہ... دیکھیں ویڈیو

راہل گاندھی نے ٹوئٹ کیا کہ کووڈ کے سبب جان گنوانے والے افراد کے کنبوں کی کہانیاں سچی ہیں، ان کا درد اور تکلیف حقیقی ہے لیکن حکومتی اعداد و شمار جھوٹے ہیں۔

راہل گاندھی / تصویر ٹوئٹر
راہل گاندھی / تصویر ٹوئٹر
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ کورونا وبا کے دوران جان گنوانے والوں کی تعداد پر غلط رپورٹ پیش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جھوٹے اعداد و شمار پیش کر کے فوت ہونے والے افراد کے درد کو نظر انداز کر رہی ہے۔

کانگریس لیڈر نے کہا کہ حکومت کو سمجھنا چاہئے کہ جو لوگ کورونا کی وجہ سے اپنے پیاروں کی جان گنوا بیٹھے ہیں، ان کے دکھ کو غلط اعداد و شمار دے کر چھپایا نہیں جا سکتا۔ راہل گاندھی نے ٹوئٹ کیا ’’کووڈ کے سبب جان گنوانے والے افراد کے کنبوں کی کہانیاں سچی ہیں، ان کا درد اور تکلیف حقیقی ہے لیکن حکومتی اعداد و شمار جھوٹے ہیں۔ صحیح اعداد و شمار بتانے ہوں گے اور 4 لاکھ روپے کا معاوضہ دینا ہوگا۔


اپنے ٹوئٹ کے ساتھ راہل گاندھی نے کورونا میں جان گنوانے والے افراد کے اہل خانہ سے بات چیت کی ویڈیو بھی شیئر کی ہے۔ ویڈیو میں راہل گاندھی کہتے ہیں، ’’گجرات ماڈل کا بہت چرچا ہوتا ہے۔ ہم نے جتنے بھی کنبوں سے بات کی، سب نے یہ کہا کہ نہ تو انہیں ہاسپیٹل میں بیڈ ملا، نہ آکسیجن ملی اور نہ وینتی لیٹر ملا۔‘‘

راہل گاندھی نے کہا کہ ’’گجرات کی حکومت کہتی ہے کہ کورونا کے سبب 10 ہزار لوگوں کی جان گئی ہے۔ ہم نے گھر گھر کانگریس کارکنان کو بھیجا، تو گجرات کی یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ ریاست میں 3 لاکھ لوگوں کی جان کورونا کی وجہ سے گئی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’حکومت ٹیکس لیتی ہے، اس کا کام لوگوں کی حفاظت کرنا ہوتا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ جن کے گھر میں کورونا کی وجہ سے کسی کی بھی جان گئی ہے اس کی حقیقت بتائی جائے اور ان لوگوں کو مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے۔‘‘


راہل گاندھی ویڈیو کے آخر میں کہتے ہیں، ہندوستان میں لاکھوں کنبے ہیں جن کے والدین، بھائی بہن کی جان گئی، وہ واپس نہیں آئیں گے لیکن ایک بات یاد رکھیں کہ کانگریس پارٹی اپنا پورا زور لگا کر ان کنبوں کو 4 لاکھ روپے کا معاوضہ دلا کر رہے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔