طیارہ حادثہ میں مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے انتقال سے سیاسی و سماجی حلقوں میں سوگ
معروف تعلیمی ادارہ انجمن اسلام ممبئی کے صدر ڈاکٹر ظہیر قاضی نے اجیت پوار کے انتقال کو غمناک سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک نہایت ذہین، زمینی حقیقتوں سے جڑے اور نظم و ضبط کے پابند سیاست داں تھے۔

ممبئی: مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اور راشٹروادی کانگریس پارٹی (اجیت پوار گروپ) کے سرکردہ رہنما اجیت دادا پوار کے اچانک اور حادثاتی انتقال کی خبر سے ریاست بھر میں شدید صدمہ اور غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اجیت پوار ایک سرکاری دورے کے دوران پیش آنے والے افسوسناک حادثہ میں جان کی بازی ہار گئے۔ حادثہ کی وجوہات کی جانچ جاری ہے، جبکہ ریاستی حکومت نے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
اجیت پوار کے انتقال پر سیاسی، سماجی، تعلیمی اور مذہبی حلقوں سے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ راشٹروادی کانگریس پارٹی (اجیت پوار) کے ریاستی نائب صدر، مسلم ویلفیئر ایسوسی ایشن کے قومی صدر اور مولانا آزاد اقلیتی مالیاتی کارپوریشن، حکومت مہاراشٹر کے ڈائریکٹر سلیم سارانگ نے کہا کہ اجیت دادا پوار کے انتقال کی افسوسناک خبر سے پورا سماج غم میں ڈوب گیا ہے۔ دادا محض ایک نام نہیں بلکہ ہزاروں لوگوں کے لیے سہارا اور رہنمائی کی علامت تھے۔ خوشی و غم میں بلا تفریق عوام کے ساتھ کھڑے رہنا، ضرورت مندوں کی مدد اور نوجوانوں کو درست سمت دکھانا ان کی پہچان تھی۔ ان کے جانے سے سماج ایک حساس، ذمہ دار اور عوامی خدمت گزار شخصیت سے محروم ہو گیا ہے، جس کا خلا کبھی پُر نہیں ہو سکے گا۔
ممبئی کے معروف تعلیمی ادارے انجمن اسلام ممبئی کے صدر ڈاکٹر ظہیر قاضی نے اجیت دادا پوار کے انتقال کو انتہائی دکھ بھرا سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک نہایت ذہین، زمینی حقیقتوں سے جڑے اور نظم و ضبط کے پابند سیاست داں تھے۔ انہوں نے کہا کہ اجیت پوار میں ایک کامیاب وزیر اعلیٰ بننے کی مکمل صلاحیت موجود تھی، تاہم قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ڈاکٹر قاضی کے مطابق اجیت پوار کو ہمیشہ ریاست میں بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے لیے یاد رکھا جائے گا، کیونکہ انہوں نے مہاراشٹر کو کئی اہم ڈیولپمنٹ پروجیکٹس دیے۔
اسلام جمخانہ کے صدر یوسف ابراہانی نے اجیت پوار کے حادثاتی انتقال کو ریاست کا بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ذہین، ڈیشنگ اور عوامی لیڈر تھے۔ نتن گڈکری کے بعد مہاراشٹر میں سب سے زیادہ مقبول رہنماؤں میں اجیت پوار کا شمار ہوتا تھا۔ اجیت پوار کسانوں کے مسائل سے بخوبی واقف تھے اور انہوں نے کسانوں کی فلاح کے لیے کئی اہم اسکیمیں نافذ کیں۔ آبپاشی کے شعبے میں ان کی خدمات ناقابل فراموش رہیں گی۔
معروف عالم دین اور آل انڈیا علماء کونسل کے جنرل سکریٹری محمود دریابادی نے کہا کہ اجیت پوار موجودہ ریاستی حکومت میں فرقہ پرستی کے خلاف ایک مضبوط ڈھال کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کی موجودگی سے ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم تھی۔ انہوں نے اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر اقدامات کیے۔ ان کا اچانک دنیا سے جانا بلاشبہ ریاست کے لیے بڑا نقصان ہے۔ اس حادثے پر مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکادمی، اس کا عملہ اور اردو داں طبقہ سوگوار ہے۔
مہاراشٹر اسٹیٹ ساہتیہ اردو اکادمی کے کارگزار صدر حسین اختر نے بھی گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست ایک اردو دوست اور اقلیت نواز شخصیت سے محروم ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجیت پوار نے اقلیتوں کی فلاح کے لیے جو خدمات انجام دیں، وہ ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ اجیت پوار ایک ممتاز عوام دوست رہنما تھے، جنہوں نے ترقیاتی کاموں کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کی فلاح و بہبود، تعلیم اور سماجی ہم آہنگی کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ عوامی مفاد اور بھائی چارے کے فروغ میں ان کے عملی کردار کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کے اچانک انتقال سے جو خلا پیدا ہوا ہے، اسے پُر کرنا آسان نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی اردو اکادمی اور ریاست کا اردو داں طبقہ سوگوار ہے، رنج میں مبتلا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔