’سماجی ہم آہنگی کے لحاظ سے ملک بے حد خطرناک دور سے گزر رہا‘، راجیہ سبھا میں ملکارجن کھڑگے نے محمد دیپک کا کیا ذکر

کھڑگے نے کہا کہ ’’حال ہی میں اتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت نے محمد دیپک پر مقدمہ درج کیا جو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے کھڑا ہوا تھا۔ اگر محافظ ہی شکاری بنا جائے تو عام آدمی حفاظت کے لیے کہاں جائے گا؟‘‘

<div class="paragraphs"><p>ملکارجن کھڑگے (ویڈیو گریب)</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ایوانِ بالا میں اپنے خطاب کے دوران ملک کو درپیش اہم مسائل کی جانب حکومت کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی۔ اپنی تقریر کے دوران انہوں نے کہا کہ ’’سماجی ہم آہنگی کے لحاظ سے ملک بے حد خطرناک دور سے گزر رہا ہے۔ ہندوستان کی شناخت صدیوں سے فکر اور طرز عمل کے تنوع کی رہی ہے۔ ہمارا ملک کئی مذاہب اور تہذیبوں کی جائے پیدائش رہا ہے۔ جہاں وہ آپسی ہم آہنگی کے ساتھ پلے بڑھے۔‘‘ انہوں نے آپسی ہم آہنگی کی ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’’حال ہی میں اتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت نے ’محمد دیپک‘ پر مقدمہ درج کیا جو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے کھڑا ہوا تھا۔ اگر محافظ ہی شکاری بنا جائے تو عام آدمی حفاظت کے لیے کہاں جائے گا؟ جو شخص جھگڑا سلجھانے کے لیے جاتا ہے، بی جے پی کے لوگ اسی کو دھمکاتے اور مارتے ہیں۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ بی جے پی کے پاس تحمل و برداشت کا مادہ نہیں ہے۔‘‘

ملکارجن کھڑگے نے ایوان کی کارگزاری سے متعلق یو پی اے اور این ڈی اے حکومت کا موازنہ بھی کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’پارلیمنٹ میں مختصر نوٹس سوال، آدھے گھنٹے کی بحث اور پرائیویٹ ممبرز بل اب اہمیت نہیں رکھتے۔ جبکہ یہ عوام کی تکالیف اور سلگتے مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھانے کا ذریعہ ہیں۔‘‘ انہوں نے یو پی اے سرکار کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’یو پی اے حکومت میں آدھے گھنٹے کی بحث کے لیے موصولہ نوٹس 3004، آدھے گھنٹے کی بحث کے لیے منظور نوٹس 30 اور آدھے گھنٹے کی ہونے والی بحث کی تعداد 19 ہے۔ اس کے مقابلے میں اگر این ڈی اے حکومت کی بات کی جائے تو آدھے گھنٹے کی بحث کے لیے موصولہ نوٹس 66، آدھے گھنٹے کی بحث کے لیے منظور نوٹس 3 اور آدھے گھنٹے کی ہونے والی بحث کی تعداد 2 ہے۔ یہ مودی حکومت کی آئین اور پالیمنٹ کے تئیں سوچ ہے۔‘‘


راجیہ سبھا میں خطاب کے دوران ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ ’’جب میں نے پارلیمنٹ میں اگنیویر منصوبہ سے متعلق سوال پوچھا تو اسے خفیہ نوعیت کا بتا کر خارج کر دیا گیا۔ جبکہ اگنیویر منصوبہ نوجوان اور روزگار پالیسی سے متعلق ہے۔ جب میں نے منی پور میں پناہ گزینوں کی آبادکاری پر پارلیمنٹ میں سوال پوچھا تو اسے عدالت میں زیر سماعت معاملہ قرار دے کر خارج کر دیا۔ پارلیمانی جوابدہی سے بچنا اور پارلیمانی استحقاق کی خلاف ورزی کرنا، بی جے پی نے جمہوریت کو ختم کرنے کا نیا طریقہ تلاش لیا ہے۔ اگر حقیقی معنوں میں ملک میں جمہوریت کو بچانا چاہتے ہیں اور سب کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو ان سوالوں کا جواب دیجیے۔‘‘

کانگریس صدر نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ’’وزیر اعظم پارلیمنٹ میں سوالوں سے بچتے ہیں۔ 16ویں اور 17ویں لوک سبھا میں 8123 سوال پوچھے گئے، لیکن صرف 13 قبول ہوئے اور 1015 سوال خارج ہو گئے۔ جتنے سوالوں کا جواب دیا گیا، اس سے 78 گنا زیادہ سوال خارج ہو گئے۔ جب خود وزیر اعظم ہی پارلیمنٹ میں جواب نہیں دیتے تو ان کے وزیر بھی سوالوں کے جواب دینے کے بجائے ان کی بھجن منڈلی بن جاتے ہیں۔ یہ جمہوریت کو ختم کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔‘‘


ملکارجن کھڑگے نے غیر این ڈی اے حکومت والی ریاستوں کے متعلق کہا کہ ’’غیر این ڈی اے حکومت والی ریاستوں میں راج بھون، بی جے پی-آر ایس ایس دفتر بن گئے ہیں۔ گورنر مرکزی حکومت کے ایجنٹ کی طرح کام کر رہے ہیں۔ گورنر کسی بھی ریاست کے انتظامی سربراہ ہوتے ہیں، جن سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ تمام معاملات میں وزراء کی کونسل کے مشورے پر عمل کریں گے۔ کرناٹک، تمل ناڈو اور کیرالہ ہر جگہ کے گورنروں نے کابینہ کے منظور کردہ معاملات پر انکار کیا ہے۔ اتنا ہی نہیں کرناٹک اسمبلی سے منظور کردہ ’ہیٹ اسپیچ بل‘ کو بھی روک دیا گیا۔‘‘ 

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔