ہم پلوامہ حملہ نہ بھولے ہیں اور نہ ہی بھولیں گیں: اجیت ڈووال

اجیت ڈووال کے مطابق ’’مزید کارروائی کب ہوگی اور کہاں ہوگی، اس کا فیصلہ قیادت کرے گی۔ یہ کارروائی دہشت گردوں کے خلاف بھی ہو سکتی ہے اور ان کی حمایت اور ان سے ساز باز کرنے والوں کے خلاف بھی۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

گڑگاؤں: قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال نے آج یعنی بروز منگل نیم فوجی دستہ سینٹرل ریزو پولس فورس (سی آر پی ایف) کی 80 ویں سال گرہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نہ تو پلوامہ حملے کو بھولے ہیں اور نہ ہی بھولیں گے۔

اجیت ڈووال نے ہریانہ کے گروگرام (گڑگاؤں) میں منعقدہ تقریب میں مزید کہا کہ ہندوستان کو سی آر پی ایف پر مکمل اعتماد اور بھروسہ ہے، یہی وجہ ہے کہ مرکزی حکومت کسی بھی مشکل صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے اسی فورس کو تعینات کرتی ہے۔

اجیت ڈووال نے پاکستان میں جیش محمد کے خلاف کارروائیوں کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کے خلاف مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ اجیت ڈووال کے مطابق ’’مزید کارروائی کب ہوگی اور کہاں ہوگی، اس کا فیصلہ قیادت کرے گی۔ یہ کارروائی دہشت گردوں کے خلاف بھی ہو سکتی ہے اور ان کی حمایت اور ان سے ساز باز کرنے والوں کے خلاف بھی۔‘‘

واضح رہے کہ 14 فروری کو پلوامہ ضلع میں سی آر پی ایف کے قافلہ پر خودکش حملہ ہوا تھا اس میں تقریباً 50 جوان شہید ہو گئے تھے۔ 78 گاڑیوں پر مشتمل اس قافلہ میں 2500 جوان شامل تھے۔ وادی کشمیر میں سیکورٹی فورسز کے خلاف اپنی نوعیت کا یہ سب سے بڑا خودکش حملہ تھا۔ ملی ٹینٹوں کی جانب سے یہ تباہ کن خودکش دھماکہ ایک کار کے ذریعے کیا گیا۔ اس کی ذمہ داری جیش محمد نے قبول کی تھی۔

جیش محمد نے ایک مقامی خبررساں ایجنسی کو بھیجے گئے بیان میں خودکش حملہ آور کی شناخت عادل احمد ڈار عرف وقاص کمانڈو ساکنہ گنڈی باغ کاکہ پورہ پلوامہ کے بطور کی تھی۔ حالانکہ بعد میں جیش محمد کی طرف سے کہا گیا کہ حملہ اس کی طرف سے نہیں کرایا گیا اور اس کا عادل احمد ڈار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس حملے کے ردِ عمل میں 26 فروری کو ہندوستانی فضائیہ نے ایل او سی پار کر کے مقبوضہ کشمیر کے بالاکوٹ میں واقع دہشت گرد تنظیم جیش محمد کی کیمپ پر فضائی حملہ کیا تھا جس میں خبروں کے مطابق 250 سے زائد ’دہشت گرد‘ مارے گئے تھے۔

ہندوستانی فضائیہ کی کارروائی کے ایک روز بعد پاکستانی فضائیہ نے بھی ہندوستان پر حملہ کرنے کی کوشش کی جس میں پاکستانی فضائیہ کے ایک طیارہ کو ہندوستان نے مار گرایا تھا، اسی کوشش میں ہندوستانی فضائیہ کا ایک جنگی طیارہ مگ 21 مقبوضہ کشمیر میں گر کر تباہ ہو گیا اور اس میں سوار پائلٹ ابھینندن کو پاکستانی سیکورٹی اہلکاروں نے گرفتار کر لیا تھا جنہیں بعد میں پاکستان نے رہا چھوڑ دیا۔

ان کارروائیوں کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں زبردست اضافہ ہو گیا تھا اور جنگ کے بادل منڈلانے لگے تھے۔ لیکن پھر عالمی رہنماؤں کی کوششوں سے صورتِ حال قابو میں آگئی۔