لڑکیوں کی شادی کی عمر بڑھانے والا بل لوک سبھا میں آئندہ ہفتہ پیش ہوگا، مرکز کا اعلان

لڑکیوں کی شادی کی عمر بڑھانے سے متعلق بل کا نام ’چائلڈ میرج ممانعت (ترمیم) بل، 2021‘ ہوگا۔ اس کے ذریعہ چائلڈ میرج ایکٹ 2006 میں تبدیلی کی جائے گی۔

شادی، علامتی تصویر آئی اے این ایس
شادی، علامتی تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

مرکزی حکومت نے لڑکیوں کی شادی کی کم از کم قانونی عمر کو بڑھا کر مردوں کے برابر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پہلے لڑکیوں کی شادی کی کم از کم عمر جو 18 سال تھی، اسے بڑھا کر 21 سال کیا جا سکتا ہے۔ کابینہ نے بدھ کو لڑکیوں کی شادی کی کم از کم عمر کو 18 سے بڑھا کر 21 سال کرنے کی تجویز کو منظوری دے دی تھی۔ اب مرکزی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ ہفتے ہی اس سے متعلق بل کو لوک سبھا میں پیش کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ انتخابی اصلاحات سے جڑے بل کو بھی آئندہ ہفتے ہی پیش کیا جائے گا۔ مرکزی حکومت نے کہا کہ وہ آئندہ ہفتہ ان دونوں بل کو پاس بھی کروانا چاہتی ہے۔ علاوہ ازیں پارلیمانی امور کے وزیر بی مرلی دھر نے بھی راجیہ سبھا میں جانکاری دی ہے کہ آئندہ ہفتے اس بل کو لایا جائے گا۔

لڑکیوں کی شادی کی عمر بڑھانے سے متعلق بل کا نام ’چائلڈ میرج ممانعت (ترمیم) بل، 2021‘ ہوگا۔ اس کے ذریعہ چائلڈ میرج ایکٹ 2006 میں تبدیلی کی جائے گی۔ بل کے ذریعہ ہندوستانی عیسائی شادی ایکٹ 1872، پارسی شادی اور طلاق ایکٹ 1936، مسلم پرسنل لاء (شریعت) درخواست ایکٹ 1937، اسپیشل میرج ایکٹ 1954، ہندو میرج ایکٹ 1955، بیرون ملکی میرج ایکٹ 1969 میں بھی تبدیلیاں کی جائیں گی۔


اس بل کے تعلق سے ایک طبقہ ناراضگی ظاہر کر رہا ہے، تو دوسری طرف کچھ اس کے فوائد بھی بتا رہے ہیں۔ فرید آباد میں فورٹس اسپتال کی ڈاکٹر اندو تنیجا کا کہنا ہے کہ اس بل کے کئی فائدے ہیں۔ سب سے پہلا تو اس قانون کے بعد کم عمری میں شادی بند ہو جائے گی۔ کم عمر میں شادی پر پابندی لگانے سے لڑکیوں کے لیے حاملہ ہونے کا معاملہ بھی 21 سال کے بعد ہی ہوگا جو صحت کے تعلق سے اہم ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ کم عمری میں حاملہ ہونے کے بہت زیادہ نقصانات ہوتے ہیں، جب کہ 21 سال کی عمر میں شادی کے بعد حاملہ ہونے پر مسائل کم ہو جائیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔