حکومت کو ’رام‘ بنا کر گدّی پر بٹھایا، لیکن ’راون‘ جیسا کر رہی سلوک: کسان لیڈر

پشپیندر سنگھ نے حکومت کے ذریعہ کسانوں کے مطالبات کو نظر انداز کیے جانے پر ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ ’’ہمارے ذریعہ منتخب نمائندے ہماری بات نہیں سنتے تو ہمارا حق ہے کہ ہم ان سے سوال کریں۔‘‘

کسان تحریک / آئی اے این ایس
کسان تحریک / آئی اے این ایس
user

تنویر

زرعی قوانین کے خلاف جاری کسانوں کے مظاہرہ نے مرکز کی مودی حکومت کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔ کسان کسی بھی حال میں دہلی بارڈرس سے گھر واپسی کے لیے تیار نہیں ہیں۔ کسان لیڈروں کا کہنا ہے کہ جب تک تینوں زرعی قوانین واپس نہیں لیے جاتے اور ایم ایس پی کو قانونی جامہ نہیں پہنایا جاتا، وہ اپنا دھرنا و مظاہرہ ختم نہیں کریں گے۔ کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے تو 40 لاکھ ٹریکٹروں کے ساتھ پارلیمنٹ ہاؤس کا محاصرہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اب کسان لیڈر پشپیندر سنگھ نے راکیش ٹکیت کی حمایت میں آواز بلند کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’حکومت کو رام چندر بنا کر گدی پر بٹھایا تھا، لیکن وہ راون جیسا سلوک کر رہی ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہمیں معلوم ہے کہ راون کی نابھی کہاں ہے۔ ووٹ ہی حکومت کی نابھی ہے اور وہیں پر حملہ کیا جائے گا۔‘‘

پشپیندر سنگھ نے مرکزی حکومت کے ذریعہ کسانوں کے مطالبات کو نظر انداز کیے جانے پر ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ ’’ہمارے ذریعہ منتخب نمائندے اگر ہماری بات نہیں سنتے تو ہمارا حق ہے کہ ہم ان سے سوال کریں۔‘‘ یہ بات پشپیندر سنگھ نے ’آج تک‘ چینل پر لائیو مباحثہ کے دوران کہی۔ انھوں نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ’’تحریک کی پالیسی ہے کہ حکومت کو پتہ نہ چلے کہ کیا ہونے جا رہا ہے۔‘‘

پروگرام کے دوران پشپیندر سنگھ نے کہا کہ ’’آپ کی جانکاری کے لیے بتا دوں کہ سابق گورنر نے لکھا ہے کہ جی ڈی پی کا 9 فیصد ہمارے اوپر قبضہ ہو گیا ہے۔ یہ ہمارے بچوں کا مستقبل بھی خراب کرنے جا رہے ہیں۔‘‘ جب کسان لیڈر پشپیندر سنگھ سے یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ اگر حکومت کل یہ قانون واپس لے لیتی ہے تو کیا آپ ساری باتیں بھول جائیں گے؟ اس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ ’’فوری طور پر وسط مدتی انتخاب کرائیے، ان کو پتہ چل جائے گا کہ وہ کہاں کھڑے ہیں۔ آپ کو بھی پتہ چل جائے گا کہ حکومت کہاں کھڑی ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔