کولکاتا کے کلامندر میں دسواں کل ہند معاشی و تجارتی اجلاس کا 14 نومبر کو انعقاد

’مغربی بنگال انڈسٹریز میں مسائل و امکانات‘ پر منعقد ہونے والے اجلاس میں ممبئی، بنگلورو، دہلی کے ماہرین معیشت کے ساتھ ساتھ بہار، جھارکھنڈ، اڈیشہ و مغربی بنگال کے تاجروں کی بھی شرکت متوقع ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

پریس ریلیز

کولکاتا: ملک میں معاشی بیداری پیدا کرنے اور معاشی طور پر لوگوں کو مستحکم کرنے کے لئے قائم ادارہ "معیشت، ممبئی" نے اپنا دسواں کل ہند معاشی و تجارتی اجلاس کولکاتہ کے کلا مندر میں 14 نومبر کو منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ "مغربی بنگال انڈسٹریز میں مسائل و امکانات " پر منعقد ہونے والے مذکورہ اجلاس میں جہاں ممبئی، بنگلور، دہلی سے ماہرین شریک ہو رہے ہیں، وہیں بہار جھارکھنڈ اڑیسہ کے ساتھ مغربی بنگال کے تاجروں کی بھی شرکت متوقع ہے۔

ادارے کے سربراہ دانش ریاض نے یو این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "پچھلی بار بھی ہم نے کولکاتہ میں تجارتی اجلاس کا انعقاد کیا تھا اور اس کے اچھے نتائج بھی برآمد ہوئے تھے آئندہ ہفتے منعقد ہونے والا اجلاس سابقه اجلاس کی دوسری کڑی ہے لیکن اسے خاص انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے، کیونکہ مردوں کے ساتھ خواتین انٹرپرینیور بھی اس اجلاس میں شریک ہو رہی ہیں"۔


دانش ریاض نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ "ایک ایسے وقت میں جبکہ تجارت و معیشت کی حالت خستہ ہے اس طرح کے تجارتی اجلاس کی ضرورت اس لئے پڑتی ہے تاکہ سرجوڑ کر دیکھا جائے کہ اب مواقع کہاں کہاں ہیں۔ مختلف ریاستوں سے جب لوگ شریک ہوتے ہیں تو انہیں دوسری ریاستوں میں تجارتی سرگرمیوں سے بھی آگاہی ہوتی ہے جبکہ آپسی ربط و تعلق بھی استوار ہوتا ہے۔ اس دفعہ بھی ہم نے مالیات کی فراہمی، اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری، اسلامی مالیاتی نظام، کے ساتھ مختلف جنریشن سے چلے آرہے تجارت کو مزید فروغ دینے کی صورت جیسے موضوعات پر ماہرین کو مدعو کیا ہے۔" واضح رہے کہ کولکاتہ کے کلا مندر میں 14نومبر بروز اتوار منعقد ہونے والے اس اجلاس میں رجسٹریشن کے ذریعہ داخلہ کی کارروائی رکھی گئی ہے تاکہ حاضرین کو کسی طرح کے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

معیشت کے منیجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ "کولکتہ میں تجارت کے مواقع ہیں اور جو لوگ بہتر طور پر تجارت کر رہے ہیں انہیں کامیابی بھی مل رہی ہے، لیکن بڑی تعداد ایسی ہے جو اپنی تجارت کو کم علمی یا درست رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے فروغ دینے میں ناکام ہے لہذا اس تجارتی اجلاس میں ہم یہی کوشش کر رہے ہیں کہ لوگوں کی فکری رہنمائی کے ساتھ مالیاتی ذرائع کی فراہمی کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی جائے اور انہیں بتایا جائے کہ کس طرح دوسری کمپنیاں فائدہ اٹھا رہی ہیں۔"


دانش ریاض نے کہا کہ "اسلامی مالیاتی نظام پر گفتگو کے لئے جہاں سہولت مائکرو فائنانس کے وائس پریذیڈنٹ ارشد اجمل تشریف لا رہے ہیں وہیں بنگلور سے راشد شریف شریک ہو رہے ہیں۔ اسٹاک مارکیٹ میں لسٹڈ کمپنی آکٹاویئر کے سی ای او اسلم خان کے ساتھ ایروٹیک کے مالک محمد حبیب اللہ بھی شرکت کر رہے ہیں۔ جبکہ خواتین کی بڑی تعداد اپنے پروڈکٹ کے ساتھ شریک ہو رہی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔