تھائی لینڈ میں بھیانک حادثہ، کرین گرنے کے بعد پٹری سے اُتری ٹرین، 22 لوگوں کی موت، 79 زخمی

اس ہولناک حادثے کے بعد مقامی افسران نے بنکاک اور شمال مشرقی صوبوں کو ملانے والی اس ریلوے لائن پر ٹرین سروس غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دی ہے۔ پولیس نے اس بات کی تحقیقات شروع کردی ہے

<div class="paragraphs"><p>فوٹو ویڈیو گریپ</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

 تھائی لینڈ میں بدھ کی صبح ایک بڑا ٹرین حادثہ پیش آیا ہے۔ ملک کی راجدھانی بنکاک سے تھائی لیڈر کے شمال مغربی صوبہ جارہی ایک ٹرین پر زیرتعمیرسائٹ کی گرین گرگئی جس کے بعد ٹرین بھی پٹری سے اترگئی۔ اس حادثے میں 22 لوگوں کی موت ہوگئی اور تقریباً 79 لوگ زخمی ہوگئے۔ یہ حادثہ بدھ کی صبح تقریباً 9 بجے تھائی لینڈ کے ضلع سکھیو میں ہوا جو راجدھانی بنکاک سے تقریباً 230 کلومیٹر دور ہے۔

مقامی پولیس افسر نے نیوز ایجنسی(اے ایف پی) کو بتایا کہ حادثے میں 22 افراد کی موت ہوئی ہے اور 79 ​​سے ​​زائد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں 8 کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ حادثے کا شکار ہوئی ٹرین اوبن رتچتھانی صوبہ جا رہی تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق زیر تعمیر ہائی اسپیڈ ریل پروجیکٹ پر کام چل رہا تھا جس پر کرین کام میں لگی تھی۔ جب وہاں سے ٹرین گزررہی تہی، تبھی کرین اس پر گرگئی۔ کرین گرنے کی وجہ سے ٹرین پٹری سے اتر گئی اور اس میں آگ لگ گئی۔ فی الحال آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔


حادثے کے بعد امدادی اور بچاؤ کارروائیوں کی ایک ویڈیو بھی منظرعام پر آئی ہے جس میں امدادی کارکن زخمیوں کو نکالنے کے لیے پٹری سے اترنے والی ٹرین کو کاٹتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ٹرین میں 195 مسافر سوار تھے۔ تاہم، یہ اعداد و شمار ٹرین میں سیٹوں کی بنیاد پر بتائے گئے ہیں اور ٹرین میں سوار مسافروں کی اصل تعداد مختلف ہو سکتی ہے۔ اس موقع پر تھائی حکومت نے حادثے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

تھائی لینڈ کے نائب وزیر اعظم اور ٹرانسپورٹ کے وزیر پیپٹ رچکٹ پرکرن نے حادثے کی وجوہات کی مکمل اور جامع تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ وہیں اس ہولناک حادثے کے بعد حکام نے بنکاک اور شمال مشرقی صوبوں کو ملانے والی اس ریلوے لائن پر ٹرین سروس غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دی ہے۔ پولیس نے اس بات کی تحقیقات شروع کردی ہے کہ تعمیراتی کرین ٹرین پر گرنے کی وجہ تکنیکی خرابی یا لاپرواہی تھی۔ حکومت نے مرنے والوں کے لواحقین سے گہرے تعزیت کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کے لیے بہترین علاج کی فراہمی کی ہدایت کی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔