44 وندے بھارت ایکسپریس ٹرینوں کے ٹنڈر منسوخ، ڈیزائن میں ہوگا بدلاؤ

ریلوے بورڈ کے چیرمین نے کہا کہ جن کمپنیوں نے تکنیکی ٹنڈر میں مالیاتی معلومات ظاہر کی تھی ان سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔ دو سطحی ٹنڈر میں ہمیشہ پہلے تکنیکی ٹنڈر کھولا جاتا ہے۔

ونود کمار یادو، تصویر یو این آئی
ونود کمار یادو، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: کووڈ-19 وبا کے پیش نظر وندے بھارت ایکسپریس یعنی 18 کے کوچ کے ڈیزائن میں تبدیلی کی جائے گی ریلوے بورڈ کے چیرمین ونود کمار یادو نے آج ایک ورچول پریس کانفرنس میں یہ اطلاع دی۔ انہوں نے کہا کہ 44 وندے بھارت ایکسپریس ٹرینوں کے ٹنڈر گزشتہ ہفتہ منسوخ کر دیئے گئے تھے۔ کچھ کمپنیوں کی طرف سے تکنیکی ٹنڈر میں مالیاتی معلومات لیک کرنے کی وجہ سے ٹنڈر منسوخ کیے گئے۔ ان سیمی ہائی اسپیڈ ٹرینوں کے لئے نئے ٹنڈر اسی ہفتہ جاری کیے جائیں گے۔ اس میں کوچ کے اندر کے ڈیزائن میں کووڈ۔19 کے پیش نظر تبدیلی کی جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں ونود کمار یادو نے کہا کہ گزشتہ برس دسمبر میں جب ٹنڈر جاری کیے گئے تھے اس وقت کووڈ کی صورتحال نہیں تھی۔ اب نئے سرے سے ٹنڈر جاری کرتے وقت کووڈ۔19 جیسی بیماریوں کا خیال رکھتے ہوے ڈیزائن میں تبدیلی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ نئے ٹنڈر گزشتہ دنوں سرکاری خرید التزامات میں کی گئی تبدیلیوں کے مطابق جاری کیے جائیں گے۔ اس میں سودیشی کا حصہ پرانے ٹنڈر کے پچاس فیصد سے بڑھایا جائے گا۔


ونود کمار یادو نے کہا کہ ٹنڈر منسوخ ہونے اور نئے سرے سے جاری کرنے سے تین مہینہ کا نقصان ہوگا۔ اس کی بھرپائی کے لئے اس بار مینوفیکچرنگ کے لئے کم وقت دیا جائے گا۔ ساتھ ہی آئی سی ایف چنئی، ایم سی ایف رائے بریلی اور آر سی ایف کپورتھلہ تینوں میں وندے بھارت ٹرینیں بنائی جائیں گی۔ پہلے صرف آئی سی ایف، چنئی میں مینوفیکچرنگ ہونی تھی۔

ریلوے بورڈ کے چیرمین نے کہا کہ جن کمپنیوں نے تکنیکی ٹنڈر میں مالیاتی معلومات ظاہر کی تھی ان سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔ دو سطحی ٹنڈر میں ہمیشہ پہلے تکنیکی ٹنڈر کھولا جاتا ہے۔ ٹنڈر کی تشخص کمیٹی کو مالی ٹنڈر کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہوتی۔ یادو نے کہاکہ 44 وندے بھارت ایکسپریس ٹرینوں کی تیاری کے لئے چھ تجاویز ملی تھیں۔ تکنیکی ٹنڈر دس جولائی کو کھولا گیا تھا۔ تکنیکی ٹنڈر کمیٹی نے دیکھا کہ اس میں کچھ مالیاتی تجاویز کا بھی انکشاف کیا گیا ہے۔ مکمل شفافیت قائم رکھنے کے لئے کمیٹی نے ٹنڈر منسوخ کرنے کی سفارش کی جسے آئی سی ایف، چنئی کے جنرل منیجر نے قبول کرلیا۔ ملک میں ابھی دو وندے بھارت ٹرینیں چل رہی ہیں۔ ایک نئی دہلی اور وارانسی اور دوسری نئی دہلی اور کٹرہ کے درمیان۔ ان کی مینوفیکچرنگ آئی سی ایف، چنئی میں کی گئی تھی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔