’مندروں کو لوٹا نہیں، لٹوایا گیا‘، اجیت ڈووال کے بیان پر کانگریس لیڈر اُدت راج کا سخت ردعمل
کانگریس لیڈر ڈاکٹر اُدت راج نے کہا کہ ’’مندروں کو لوٹا نہیں بلکہ لٹوایا گیا۔ جب ہم تمام جنگیں ہار رہے تھے تو ذات پات کا نظام اپنے عروج پر تھا اور صرف ایک ہی ذات کو لڑنے کا حق تھا۔‘‘

کانگریس لیڈر اور سابق رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر اُدت راج نے ترقی یافتہ ہندوستان کے پروگرام میں این ایس اے چیف اجیت ڈووال کے ذریعہ دیے گئے بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکڑ ادت راج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’اجیت ڈووال نے کہا کہ مندروں کو لوٹا گیا، ہم بے بس رہے۔ بدلہ لینا ہوگا... نوجوانوں میں آگ ہونی چاہیے۔ ان کا بیٹا انگلینڈ کا شہری ہے، پہلے اسے ہندوستانی شہری بناؤ، آگ بھرو تاکہ بدلہ لینے کے لیے آگے آئے۔‘‘
کانگریس لیڈر نے مزید کہا کہ ’’مندروں کو لوٹا نہیں بلکہ لٹوایا گیا۔ جب ہم تمام جنگیں ہار رہے تھے تو ذات پات کا نظام اپنے عروج پر تھا اور صرف ایک ہی ذات کو لڑنے کا حق تھا۔ جبکہ بقیہ ذاتوں کو اپنے پیشے تک محدود رہنا تھا ورنہ مذہب میں بگاڑ پیدا ہو جاتا۔‘‘ ادت راج نے سوال اٹھایا کہ ’’حملہ آور صرف ہزاروں کی تعداد میں ہوتے تھے تو کروڑوں ہندوستانی تمام جنگیں کیوں ہارے؟ کون روک رہا تھا لڑنے کے لیے؟ ہاں لڑتے تھے لیکن دلتوں اور پسماندہ طبقات سے اور ابھی بھی وہی کر رہے ہیں۔ ان کی باتیں صرف لفاظی پر مبنی ہوتی ہیں اور سادہ لوگ پھنس جاتے ہیں۔‘‘
ڈاکٹر ادت راج نے کہا کہ ’’حکومت چلا نہیں پا رہے ہیں تو مار دیا لفاظی کہ ہم وِشوگرو ہیں۔ بنتے ہیں وِشوگرو اور ان کے ہی زیادہ تر بچے بیرون ملک یا انگلش میڈیم اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ کیوں نہیں سنسکرت کے ذریعہ وید پڑھاتے ہیں۔ عیسائیوں اور ملحدوں کے حاصل کردہ علم کی طرف بھاگے جا رہے ہیں اور انہی کو گالیاں دیتے ہیں۔‘‘ ادت راج نے سوال کیا کہ ’’اب بتاؤ سومناتھ مندر لوٹا گیا یا لٹوایا گیا۔ دنیا کا اصول ہے کمزور کو لوٹنا اور حکومت کرنا۔ اب بھی ایمانداری سے غلطی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہو تو مستقبل میں پھر ویسا ہی ہوگا۔‘‘
ادت راج کے علاوہ جموں و کشمیر کی وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی کا بھی اجیت ڈووال کے بیان پر ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ بہت دکھ کی بات ہے کہ ڈووال جیسے بڑے آفیسر جن کا کام ملک کو اندرونی اور باہری غلط ارادوں سے بچانا ہے۔ انہوں نے نفرت کی فرقہ وارانہ سوچ میں شامل ہونے اور مسلمانوں کے خلاف تشدد کو نارمل بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’صدیوں پرانے واقعات کا 21 صدی میں بدلہ لینے کا مطالبہ کرنا صرف ایک دکھاوا ہے، جو غریب اور جاہل نوجوانوں کو ایک اقلیتی طبقہ کو نشانہ بنانے کے لیے اکساتا ہے، جو پہلے سے ہی ہر طرف سے حملوں کا سامنا کر رہی ہے۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔