مورتی نصب کر کے پوجا کرنے والا ٹرمپ کا بھگت، ایک دیدار کا خواہشمند

بُسا کرشنیا کو لوگ، ٹرمپ کے تئیں اس کی اندھی عقیدت کو دیکھ کر ٹرمپ کرشنا کے نام سے پکارتے ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

حیدرآباد: ملک میں مختلف مقامات پارکوں اور جنکشنوں پر سیاسی لیڈروں کے مجسمے ہم تمام کے لئے عام بات ہے۔ سیاسی لیڈروں کے مداح اپنے لیڈر کی تصویر اپنے مکانات یا دفاتر میں اپنے رہنما کی تصویروں کو احترام کے ساتھ لگاتے ہیں۔ قابل احترام رہنماوں کی منادر بنانے کی بھی مثالیں ہیں تاہم ان تمام کو پیچھے چھوڑتے ہوئے تلنگانہ کے جنگاوں ضلع کے کونے گاوں کے رہنے والے ایک شخص نے اپنے مکان کو مندر میں تبدیل کر دیا۔

وہ اس مندر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پوجا کرتا ہے۔ بُساکرشنیا کو لوگ، ٹرمپ کے تئیں اس کی اندھی عقیدت کو دیکھ کر ٹرمپ کرشنا کے نام سے پکارتے ہیں۔ 33 سالہ کرشنیا رئیل اسٹیٹ کا تاجر ہے۔ اس کو ٹرمپ سے اتنی عقیدت ہے کہ اس نے امریکی صدر کا 6 فیٹ اونچا مجسمہ اپنے مکان میں لگادیا اور وہ روزانہ اس کی پوجا کرتا ہے۔

وہ ملک کی مختلف منادر کو پوجا کے لئے جانے کے دوران اپنے ساتھ ٹرمپ کی تصویر بھی رکھتا ہے۔یہاں تک کہ دریا میں مقدس ڈبکی لگانے کے دوران بھی اس کے ساتھ ٹرمپ کی تصویر ہوتی ہے۔ وہ ٹرمپ کی طویل عمری کے لئے ہر جمعہ کو روزہ بھی رکھتا ہے۔ کام پر آنے سے پہلے وہ ٹرمپ کی تصویر کی پوجا کرتا ہے اور لوگوں نے اس کی بے پناہ عقیدت کو دیکھ کر اس کے گھر کو ٹرمپ ہاؤس کا نام دے دیا ہے۔

اب جبکہ 24 فروری کو ٹرمپ ہندوستان کا دورہ کرنے والے ہیں،کرشنا شخصی طور پران سے ملنے کا خواہشمند ہے۔ اس نے حکومت سے خواہش کی ہے کہ اس کے اس خواہش کی تکمیل کی جائے۔ چار سال پہلے اس نے ٹرمپ کی پوجا شروع کی جب اس نے اپنے خواب میں ان کو دیکھا۔

اس کا کہنا ہے ”میں ان کے خیالات جاننے اور ان کی صاف گوئی کو دیکھنے کے بعد ان کا مداح ہوگیا۔درحقیقت مجھے دوسروں خداوں کے بجائے ان کی پوجا کرنے میں اطمینان حاصل ہوتا ہے۔میں نے حکومت ہند سے خواہش کی ہے کہ میرے خواب کو پورا کیاجائے“۔

گرچہ کہ اس کے ارکان خاندان نے اس کے اس عقیدہ کی مخالفت کی ہے تاہم اس کو اس کے دوستوں اور گاوں والوں سے حمایت مل رہی ہے جو کرشنا کی ٹرمپ سے ملاقات کو دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔