تیجسوی یادو کا زمین کےعوض نوکری معاملے میں الزامات قبول کرنے سے انکار، مقدمہ لڑنے کا فیصلہ

عدالت نے الزامات طے کرنے کے بعد مقدمے کی کارروائی شروع کرنے کا راستہ صاف کر دیا ہے حالانکہ معاملے کے تمام ملزمین ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ سیاسی انتقامی کارروائی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

 بہار کے سابق نائب وزیراعلیٰ اور آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ میں سی بی آئی کی جانچ والے زمین کے عوض نوکری دینے کے مبینہ گھپلے میں اپنے خلاف عدالت کے ذریعہ طے کئے الزامات کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے اس معاملے میں مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔9  جنوری 2026 کو راؤز ایونیو کورٹ نے سابق وزیعالیٰ لالو پرساد یادو، ان کی اہلیہ رابڑی دیوی، بیٹوں تیجسوی یادو، تیج پرتاپ یادو، بیٹی میسا بھارتی اور کئی دیگر ملزمین کے خلاف بدعنوانی، دھوکہ دہی اور مجرمانہ سازش کے الزامات عائد کیے تھے۔

الزام ہے کہ لالو یادو اور ان کے خاندان نے ایک جرائم پیشہ گروہ کی طرح کام کیا اور سرکاری نوکریوں کو زمین حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا۔ جج نے ریمارکس دیے کہ وزارت ریلوے کو ذاتی ملکیت کے طور پر استعمال کیا گیا اور بڑی سازش کی گئی۔ اس معاملے میں عدالت نے 41 ملزمین کے خلاف فرد جرم عائد کی جبکہ 52 کو بری کر دیا۔ یہ معاملہ لالو پرساد یادو کے 2004 سے 2009 تک وزیر ریل رہتے ہوئے بھارتی ریلوے میں گروپ ڈی کی تقرریوں سے متعلق ہے۔


معاملے کی جانچ کرنے والی سی بی آئی کا الزام ہے کہ ان نوکریوں کے عوض امیدواروں نے لالو خاندان یا ان کے ساتھیوں کے نام رعایتی قیمتوں پر یا مفت میں زمینیں منتقل کیں۔ 29 جنوری کو عدالت نے لالو خاندان اور دیگر ملزمین کو یکم سے 25 فروری کے درمیان باضابطہ طور سے الزامات قبول کرنے یا مسترد کرنے کے لیے پیش ہونے کی ہدایت دی تھی۔ تیجسوی یادو نے الزامات تسلیم نہیں کئے اور مقدمے کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا۔

آر جے ڈی نے اس پورے معاملے کو سیاسی انتقامی کارروائی بتاتے ہوئے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ عدالت نے الزامات طے کرنے کے بعد مقدمے کی کارروائی شروع کرنے کا راستہ صاف کر دیا ہے۔ تمام ملزمین ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ سیاسی انتقامی کارروائی ہے۔ سی بی آئی کیس کی تحقیقات کر رہی ہے اور اب سماعت اور ثبوت پیش کرنے کا اگلا مرحلہ شروع ہوگا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔