کھرب پتیوں کا چشمہ لگا کر کسانوں کی بے عزتی کرنے والی حکومت کی ’آنکھ کا پانی مر چکا!‘ پرینکا گاندھی

پرینکا گاندھی نے کہا کہ مودی حکومت سیاہ قوانین کو واپس لینے کے بجائے ملک کے کسانوں کی بار بار بے عزتی کرنے میں مصروف ہے۔

پرینکا گاندھی، تصویر آئی اے این ایس
پرینکا گاندھی، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے ایک مرتبہ پھر کسانوں کے مسئلہ پر مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت سیاہ قوانین کو واپس لینے کے بجائے ملک کے کسانوں کی بار بار بے عزتی کرنے میں مصروف ہے۔

کانگرس کی اتر پردیش انچارج و جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے کہا کہ حکومت صرف اپنے کھرب پتی دوستوں کو فائدہ پہنچانے کا کام کر رہی ہے اور انہی کا چشمہ لگا کر کسانوں کے بحران کو دیکھ رہی ہے اس لئے اسے حقیقت نظر نہیں آتی۔


پرینکا گاندھی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’’بی جے پی حکومت نے پارلیمنٹ میں کہا کہ نا تو اس نے سیاہ زرعی قوانین پر کسانوں کی منشا معلوم کرنے کی کوئی کوشش کی اور نا ہی اس کے پاس شہید کسانوں کے تعلق سے اعداد و شمار موجود ہیں۔ اپنے کھرپ پتی دوستوں کا چشمہ لگا کر آنکھ کا پانی مار چکی یہ حکومت بس کسانوں کی بے عزتی کرنے میں مصروف ہے۔‘‘ پرینکا گاندھی نے ٹوئٹ کے ساتھ ہیش ٹیگ ’سیاہ زرعی قوانین واپس لو’ کا بھی استعمال کیا ہے۔

ادھر زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک لگاتار جاری ہے اور اسے کل 8 مہینے پورے ہونے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر کسان اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے بڑی تعداد میں غازی پور بارڈر پر جمع ہو رہے ہیں۔ مغربی یوپی سے بھی بڑی تعداد میں کسان دہلی این سی آر کا رخ کر رہے ہیں۔ میرٹھ سے ایک قافلہ آج ہی غازی پور بارڈر کے لئے روانہ ہوا ہے۔ ادھر، دہلی کے جنتر منتر پر بھی کسانوں کا احتجاج جاری ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔