لبرلائزیشن کے 30 سال: چدمبرم کا مودی حکومت پر نشانہ، ’امیروں کے لئے الگ اور دوسرے شہریوں کے لئے الگ نظام ناقابل برداشت‘

معاشی آزاد خیالی کے 30 سال مکمل ہونے پر پی چدمبرم نے کہا کہ گزشتہ کچھ وقت سے ہماری ترقی کی رفتار تھم سی گئی ہے اور اسے پٹری پر لانے کے لئے موجودہ حکومت کو اپنی پالیسیوں کی خامی کا اعتراف کرنا ہوگا

پی چدمبرم / Getty Images
پی چدمبرم / Getty Images
user

ایشلن میتھیو

سابق وزیر مالیات پی چدمبرم نے کہا ہے کہ موجودہ معاشی صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے حکومت کو اپنی معاشی پولیسیوں پر از سر نو غور کرنا ہوگا اور انہیں نئی شکل دینا ہوگی، تبھی حالات بہتر ہوں گے۔ چدمبرم نے ان خیالات کا اظہار لبرلائیزیشن (آزاد خیالی) کی 30 ویں سالگرہ کے موقع پر ’نیشنل ہیرالڈ‘ سے گفتگو کے دوران کیا۔

سال 1991 میں جب معاشی آزاد خیالی کی راہ اختیار کی گئی تھی اس وقت پی چدمبرم مرکز میں وزیر تجارت کا قلمدان سنبھال رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاشی ترقی کو پٹری پر لائے بغیر ملک اور عوام کا بھلا نہیں ہو سکے گا۔ نیز اس وقت غریب اور متوسط طبقہ بحران سے دوچار ہے، لہذا حکومت کو چاہیے کہ نئی معاشی پالیسیوں کو متعارف کرائیں۔

پی چدمبرم کی نیشنل ہیرالڈ سے ہونے والی گفتگو کے اہم اقتباسات:

سوال: 1991 میں ہم غیر ملکی کرنسی پر مبنی معاشی بحران کے دہانے پر تھے لیکن آج ہم کئی محاذوں پر بحران کا شکار ہیں۔ ملک بڑے پیمانے پر بے روزگاری، صارفین کے خرچ میں گراوٹ، بچت اور سرمایہ کاری میں کمی اور مہنگائی کے بحران میں مبتلا ہے۔ وبا کے بعد سے صورت حال مزید ابتر ہو گئی ہے۔ کیا ہندوستان کو ایک سخت معاشی پالیسی پر از سر نو غور کرنے کی ضرورت ہے؟ اگر اصلاحی اقدام اٹھائیں جائیں تو حکومت کو سب سے پہلے کیا کرنا چاہیے؟

پی چدمبرم: بلاشبہ، صورت حال پر از سر نو غور کرنے اور این ڈی اے حکومت کی جانب سے اختیار کی جا رہی معاشی پالیسیوں میں اصلاح کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت نے جی ڈی پی (مجموعی ملکی پیداوار) کی شرح نمو کو 8 فیصد سے گھٹا کر منفی 4.5 فیصد تک پہنچا دیا۔ یہ انتہائی خراب صورت حال ہے۔ روزگار، آمدنی/مزدوری، گھریلو بچت اور کھپت کو حد درجہ متاثر کرنے والی موجودہ معاشی پالیسیوں کا کوئی کس طرح دفاع کر سکتا ہے۔ 1991 کا بحران شدید وسیع معاشی عدم توازن کے سبب پیدا ہوا تھا جبکہ موجودہ بحران نااہل اور غیر موثر معاشی انتظام کے سبب پیدا ہوا ہے۔ حکومت اگر چاہے تو براہ راست فوائد کی منتقلی یعنی ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر اور ایندھن کی قیمتوں، بلواسطہ ٹیکسوں اور سرمایہ خرچ میں کمی جیسے اقدامات اٹھا سکتی ہے۔


سوال: سال 2001 میں آپ نے کہا تھا کہ 8 فیصد شرح ترقی کو غیر متوقع کہا جا سکتا ہے، جبکہ یو پی اے نے دوسری مدت میں اسے تقریباً حاصل کر لیا لیکن اب یہ تقریباً تباہ ہو چکی ہے۔ تو کیا ہم 1991 جیسے بحران کے دور میں واپس آ گئے ہیں؟

پی چدمبرم: نہیں، ہم 1991 جیسے حالات میں واپس نہیں آئے۔ آج ہمارے پاس بڑے پیمانے پر غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر موجود ہیں۔ ہمارے پاس سیبی (سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا) جیسے ریگولیٹر ہیں۔ لیکن ہماری شرح ترقی زوال پذیر ہے۔ جب تک ہم شرح ترقی کو پٹری پر واپس نہیں لاتے، اس وقت تک ملک کی جامع ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود ممکن نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کا غریب طبقہ بحران کا شکار ہے۔

سوال: مودی حکومت نے تین زرعی قوانین کے نفاذ کو شعبہ زراعت کے لئے 1991 والا لمحہ قرار دیا ہے؟ کیا آپ اس بیان سے متفق ہیں اور اس پر آپ کا کیا کہنا ہے؟

پی چدمبرم: زرعی بلوں کے پیچھے جو بھی منشا رہی ہو، حقیقت یہ ہے کہ ان بلوں پر کسانوں بالخصوص پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش کے کسانوں کو اعتراض ہے۔ کسانوں اور حکومت کے درمیان جمود کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے جس کو توڑنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ ان قوانین کو منسوخ کر دیا جائے اور نئے سرے سے کسان تنظیموں کے مشورے سے ایک دیگر مسودہ قانون تیار کیا جائے۔ سوال یہی ہے کہ حکومت آخر اس راستہ کو اختیار کیوں نہیں کر رہی؟


سوال: کیا فلاحی حکومت اور آزاد خیالی کے درمیان کوئی تضاد ہے؟ 1991 کے بعد یہ نظریہ کس طرح تبدیل ہو گیا؟

پی چدمبرم: کوئی تضاد نہیں ہے۔ کام، رقوم اور فلاح کو فروغ دینا آزاد خیالی اور فلاحی حکومت دونوں کے مقاصد ہیں۔

سوال: 2008 کے معاشی بحران کے بعد دنیا نے آزاد خیالی اور نجکاری کی نئی لہر کا تجربہ کیا۔ کیا آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ کورونا سے جو بحران پیدا ہوا ہے اس سے ابھرنے کے لئے بھی یہی راستہ اختیار کیا جائے گا۔

پی چدمبرم: جب کساد بازاری ہو یا معاشی سرگرمیاں طویل عرصہ تک سست پڑ گئی ہوں، تو موثر ترین طریقہ مالی محرک (فسیکل اسٹیمولس) ہی مانا جاتا ہے۔ 2008 کے بعد اور پھر 2011 سے 2013 کے دوران اسے کامیابی کے ساتھ آزمایا بھی گیا ہے۔ جب تک ہمیں کوئی بہتر راستہ نہیں مل جاتا اس وقت تک مالی محرک کا ہی سہارا لینا چاہیے لیکن اس کا بہتر اور محتاط طریقہ سے انتظام ہونا چاہیے۔ ہاں، اس سے آزاد خیالی اور نجکاری کی ایک نئی لہر پیدا ہوگی یا نہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔


سوال: وبا کے تعلق سے اور بالخصوص شعبہ صحت میں، ملک کی فلاحی حکومت کو کن اصلاحات کی ضرورت ہے؟ کیا ’نیائے‘ (کانگریس کے منشور میں شامل فلاحی اسکیم) طرز پر فلاحی خرچ ہندوستان کے لئے کسی بحران سے نجات دلانے کا راستہ ہے؟

پی چدمبرم: نیائے یا اسی طرح کی فلاحی اسکیموں کا مقصد غریبوں کی مدد کرنا اور ان کی تخلیقی صلاحیات کو اجاگر کرنا ہے۔ انسانی فلاحی و بہبود کی ترقی انڈیکیٹر (ایچ ڈی آئی) عدم مساوات کو ختم کرنے، زندگی کے میعار کو بہتر بنانے، ماحولیات اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے سے متعلق ہے۔ فلاح و بہبود کے دو اہم ستون ہیں، صحت اور تعلیم۔ لیکن حکومت عوام کو بہتر نظام صحت اور تعلیم فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ ہمارے ملک میں امیروں کے لئے الگ اور دوسرے شہریوں کے لئے الگ نظام قبول نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ملک میں امیر صرف 10 فیصد ہیں۔

سوال: موجودہ مرکزی حکومت نے اندھا دھند نجکاری شروع کر دی ہے۔ یہاں تک کہ ریلوے اور بندرگاہوں اور تیل کے ذخائر سمیت دیگر اسٹریٹجک شعبوں کی نجکاری کا بھی منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ آپ نے پہلے کہا ہے کہ مکمل لبرلائزیشن میں بڑے پیمانے پر ریگولیشن اور نجکاری کی ضرورت ہے۔ کیا آپ کہیں گے کہ ہم اس راستے پر بہت آگے آ چکے ہیں؟

پی چدمبرم: میرا خیال ہے کہ معاشی سرگرمیوں کے تمام شعبوں میں نجی شعبے کو قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس کی بہترین مثال زراعت ہے۔ نجی شعبے کے ذریعہ تقریباً تمام نجی سامان تیار کیے جا سکتے ہیں اور خدمات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ جب اس کا تعلق ’عوامی سامان اور خدمات‘ سے ہوتا ہے تو یہ مسئلہ بحث کا موضوع بن جاتا ہے۔ سڑکیں عوامی سامان ہیں۔ ایک اوسط شہری توقع کرے گا کہ سڑک ریاست کی ملکیت ہو نا کہ کسی نجی فرد کی! تاہم، پی پی پی جیسے نئے طریقوں کے ساتھ ہم نے ایک ایسا راستہ تلاش کیا ہے جس کے ذریعے قومی شاہراہ بھی ریاست کی ملکیت ہے لیکن اس کی دیکھ بھال ایک نجی ادارے کے زیر انتظام کی جاتی ہے۔ ریلوے کا مسئلہ زیادہ پیچیدہ ہے اور اس کا کوئی ہاں یا نا میں جواب نہیں ہو سکتا۔ ہمیں مختلف خیالات کے ساتھ تجربہ کرنا ہوگا اور ملکیت اور انتظام و انصرام کے ایسے ماڈل تلاش کرنے ہوں گے جو ریلوے نظام کی صلاحیات میں اضافہ کر سکیں۔


سوال: کیا ہندوستان ایک زمیندارانہ نظام کی طرف گامزن ہے، جس میں ریلائنس اور اڈانی گروپ جیسے بڑے گروپ مختلف شعبوں میں اجارہ داری حاصل کر رہے ہیں؟ کیا یہ اس سے جمہوریت اثرانداز ہو رہی ہے اور ملک میں عدم مساوات میں اضافہ ہو رہا ہے؟ کیا اب دولت کی یکساں تقسیم مکمل طور پر ناممکن ہے؟

پی چدمبرم: اجارہ داری ایک مشکوک معاملہ ہے۔ اجارہ داری سنگین معاشی چیلنجوں کا سبب بن سکتی ہے۔ عدم مساوات میں اضافہ اسی طرح کا چیلنج ہے۔ زمیندارانہ نظام، اجارہ داری سے صرف ایک قدم دور ہے اور میرے خیال میں اتنا ہی قابل اعتراض اور خطرناک ہے۔ زمیندارانہ نظام اور اجارہ داریوں کے ظہور کے خلاف مضبوط قوانین اور نفاذ کا ہونا لازمی ہے۔ مسابقتی کمیشن کسی حد تک مایوس کن ثابت ہوا ہے۔

سوال: ماحولیاتی تبدیلی کے پیش نظر دنیا بھر کے لوگ آب و ہوا کو از سر نو بہتر بنانے کے لئے حوالہ سے عزائم کا اعادہ کر رہے ہیں اور اس کے علاوہ کاربن کے اخراج کو بھی کم کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس معاملہ میں آپ ہندوستان کو کہاں دیکھتے ہیں؟

پی چدمبرم: مجھے اس حوالہ سے زیادہ معلومات نہیں ہیں لیکن مجھے معلوم ہے کہ ہندوستان نے کاربن کے اخراج میں کمی کے کچھ اہداف کو قبول کر لیا ہے، ہمیں ان مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ توانائی کے متبادل ذرائع (کوئلہ اور دیگر حیاتیاتی ایندھن پر انحصار کم کرنا) کی تلاش اور ان کا استعمال عالمی آب و ہوا کی حکمت عملی کا ایک اہم عنصر ہے۔


سوال: کیا ہم عالمگیریت کے بعد کی دنیا میں رہ رہے ہیں؟ مثال کے طور پر ہندوستان میں ہم ’آتم نربھر بھارت‘ کی بات کر رہے ہیں اور امریکہ میں ’میک امریکہ گریٹ اگین‘ آج بھی لوگوں کو راغب کر رہا ہے۔

پی چدمبرم: آپ عالمگیریت کے بعد کی جس نام نہاد دنیا کی بات کر رہی ہیں وہ لیڈروں (سابق صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم مودی) کی وجہ سے ہے، جو عالمگیریت اور آزاد بازاروں کی اہمیت کو نہیں سمجھتے۔ خود انحصار درآمدی متبادل، برآمدی مایوسی اور تحفظ پسندی کے دنوں کی واپسی ہے۔ ہم پہلے ہی آزاد پالیسیوں کو تبدیل کرنے کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ جتنی جلدی ملک کو موجودہ پالیسیوں کے ناقص ہونے کا احساس ہوگا، معاشی بحالی بھی اتنی ہی تیزی سے واقع ہوگی۔

سوال: کیا پھر سے 1991 کی معاشی آزاد خیالی کی بات کریں۔ ہندوستان پہلے ہی آئی ٹی انقلاب کی طرف پہلا قدم اٹھا چکا ہے۔ اس کے بعد ہندوستان کی آئی ٹی قیادت جدید علاقوں اور ٹیکنالوجیز میں تسلط اختیار کرنے سے قاصر رہی، کیا اسی لئے آئی ٹی انڈسٹری جمود کا شکار ہے؟

پی چدمبرم: میں یہ نہیں کہوں گا کہ ہماری آئی ٹی انڈسٹری جمود کا شکار ہو گئی ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم دوڑ میں اکیلے نہیں ہیں۔ جس طرح ہندوستانی صنعتیں اپنی صلاحیتوں اور رسائی کو بہتر بنا رہی ہیں، اسی طرح دنیا کی دیگر آئی ٹی کمپنیاں بھی اپنی صلاحیتوں اور رسائی کو بہتر بنا رہی ہیں۔ ہمیں اپنی رفتار مزید بڑھانا ہوگی۔ تخلیق کاری، تحقیق اور رکاوٹ کی کلید ہیں۔ اگر ہم کوئی ایسا ماحول تشکیل دے سکتے ہیں جو خطرہ اٹھانے والی ان خصوصیات کی قدر کرے تو ہم باقی دنیا سے آگے نکل سکتے ہیں۔ یہ ایک مشکل اور لمبا کام ہوگا۔


سوال: مرکزی حکومت کے زیر انتظام ایک اقتصادی مشاورتی کونسل تھی لیکن تمل ناڈو نے جس طرح سے معاشی ماہرین کو اپنی کمیٹی میں شامل کیا ہے، اسے ایک بہت بڑا قدم کہا جا سکتا ہے۔ گورننس اور مہارت کو یکجا کرنے والی حکومتوں کے بارے میں آپ کا تجربہ کیا ہے؟

پی چدمبرم: مودی حکومت کو معاشی مہارت پر یقین نہیں ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر رگھورام راجن، ڈاکٹر اروند پنگڑھیا اور ڈاکٹر اروند سبرامنیم کو باہر جانے دیا۔ تمل ناڈو حکومت کا عالمی شہرت یافتہ ماہر معاشیات کی خدمات حاصل کرنا قابل مبارکباد ہے۔ تمام علوم صرف سیاسی رہنماؤں اور سرکاری عہدیداروں کے پاس ہی نہیں ہیں۔ پالیسی سازی اور حکمرانی کے لئے آزاد معاشی ماہرین کے مشورے اہم ہوتے ہیں۔ یو پی اے حکومت کے دوران ہمیں اس نقطہ نظر سے فائدہ ہوا۔

سوال: اگر ذاتی طور پر پوچھا جائے تو لبرلائزیشن کے تجربے نے کیا آپ کو تھوڑا کم سوشلسٹ بنا دیا ہے؟

پی چدمبرم: اگر سوشلزم، کام، خوشحالی اور لوگوں کی فلاح و بہبود کو فروغ دیتا ہے تو میں ہمیشہ سوشلسٹ ہی رہنا پسند کروں گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 25 Jul 2021, 2:03 PM