تمل ناڈو کی اسٹالن حکومت نے 2.15 کروڑ خاندانوں کودیا ’پونگل گفٹ‘، کروڑوں روپے سے زیادہ کا ہوا نقد لین دین

’پونگل گفٹ اسکیم‘ کے تحت ایک کلو چاول، چینی کے ساتھ 3 ہزار روپئے نقد دیئے جاتے ہیں۔ یہ فائدہ تمام راشن کارڈ ہولڈروں کو ملتا ہے جس میں سری لنکائی تامل بحالی کیمپوں میں رہنے والے خاندان بھی شامل ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

 تمل ناڈوکی اسٹالن حکومت نے رواں سال 97 فیصد اہل خاندانوں کے درمیان ’ پونگل گفٹ‘ تقسیم کیے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کل 2.22 کروڑ اہل خاندانوں میں سے 2.15 کروڑ راشن کارڈ ہولڈرس کو حکومت کی اسکیم کا فائدہ ملا ہے۔ ریاست کے امداد باہمی وزیر ے آر پیریاکرپپن نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ ’پونگل گفٹ ہیمپراسکیم‘ کے تحت نقد تقسیم کے لیے مختص 6687.51 کروڑ روپئے میں سے اب تک 6453.54 کروڑ روپئے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ اس اسکیم پرعمل درآمد کی تعریف کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ اتنی بڑی مقدار میں نقد رقم کی تقسیم افسران کی منصوبہ بندی اور پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم (پی ڈی ایس) کے ملازمین کی سنجیدہ کوششوں کی وجہ سے ممکن ہوئی۔

8 جنوری کو شروع کی گئی ’پونگل گفٹ اسکیم‘ کے تحت ایک کلو کچا چاول، چینی اور ایک گنا کے ساتھ 3,000 روپئے نقد دیا جاتا ہے۔ یہ فائدہ تمام راشن کارڈ ہولڈروں کو دیا جاتا ہے جس میں سری لنکائی تامل بازآبادکاری کیمپوں میں رہنے والے خاندان بھی شامل ہیں۔ ریاستی محکمہ امداد باہمی کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ راشن کی دکانوں پر ایک ہفتے میں 6,500 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقد لین دین کیا گیا۔ ضلع کلیکٹروں اور جوائنٹ رجسٹراروں کی نگرانی میں سینٹرل کوآپریٹو بینکوں سے لوکل سوسائیٹیوں کو فنڈز منتقل کیے گئے اور مسلح پولیس تحفظ کے ساتھ فیئر پرائس دکانوں تک پہنچائے گئے۔


ہر راشن کی دکان عام طور پر 900-1,100 کارڈ ہولڈرز کو سروس فراہم کرتی ہے جس میں ہر دکان پر 27۔32 لاکھ روپئے کا لین دین ہوتا ہے اور روزانہ 6-7 لاکھ روپئے کا کاروبار ہوتا ہے۔ حالانکہ ریاست بھر میں تقریباً 7.6 لاکھ  کارڈ ہولڈرز کو ابھی تک ’پونگل پیکج‘ نہیں ملا ہے۔اس کی بنیادی وجہ تیوہار کے دوران  مسفیدین کا اپنے گھروں سے باہر سفر کرنا ہے۔

ضلع وار اعداد و شمار میں بھی تضاد پائے گئے ہیں۔ جنوبی چنئی میں سب سے زیادہ زیر التواء فمستفیدین درج کئے گئے جہاں 10.59 لاکھ اہل کارڈ ہولڈرز میں سے تقریباً 59,000 کوابھی بھی پیکیج نہیں ملا ہے۔ دیگر اضلاع جن میں بڑی تعداد میں مستفیدین ابھی تک انتظار کر رہے ہیں ان میں مدورائی (44,000)، ترونیل ویلی (32,000) اور تھینی (22,000) شامل ہیں۔ اس کے برعکس دھرما پوری، تروپتر، آریالور، پیرمبلور اور پڈوکوٹائی جیسے اضلاع نے تقریباً 98 فیصد تقسیم حاصل کی ہے جہاں ہر ضلع میں 10ہزار سے کم کارڈ ہولڈر ابھی تک اسکیم کے فوائد حاصل کرنے کے منتظر ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔