تمل ناڈو: وجے کی حمایت کریں یا نہ کریں! بی جے پی کی اتحادی پارٹی ’اے آئی اے ڈی ایم کے‘ میں پھوٹ کے آثار نمایاں

سابق وزیر اعلیٰ اور اے آئی اے ڈی ایم کے لیڈر ایڈپاڈی کو بالواسطہ طور پر وارننگ دی گئی ہے کہ اگر انہوں نے جلد فیصلہ نہیں لیا تو 30 سے زائد اراکین اسمبلی پارٹی توڑ کر وجے کو سپورٹ کر دیں گے۔

<div class="paragraphs"><p>وجے، ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

تمل ناڈو کی سیاست میں اس بار بڑا الٹ پھیر دیکھنے کو ملا ہے۔ اسمبلی انتخاب میں اداکار سے سیاست داں بنے وجے کی پارٹی ٹی وی کے 108 سیٹیں حاصل کر سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ اس کے باوجود حکومت بنانے کے لیے اسے دوسری پارٹیوں کی حمایت کی ضرورت ہے، کیونکہ پارٹی اب بھی واضح اکثریت کے لیے ضروری 118 کے اعداد و شمار سے 10 پیچھے ہے۔ اس درمیان تمل ناڈو میں بی جے پی کی اتحادی پارٹی اے آئی اے ڈی ایم کے میں بغاوت کے آثار دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ وجے کو حمایت دینے کے معاملے پر پارٹی 2 حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔

ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی نیوز‘ پر ذرائع کے حوالے سے شائع خبر کے مطابق اے آئی اے ڈی ایم کے کے 47 اراکین اسمبلی ٹی وی کے کو سپورٹ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ اور اے آئی اے ڈی ایم کے لیڈر ایڈپاڈی کو بالواسطہ طور پر وارننگ دی گئی ہے کہ اگر انہوں نے جلد فیصلہ نہیں لیا تو 30 سے زائد اراکین اسمبلی پارٹی توڑ کر وجے کو سپورٹ کر دیں گے۔ اس بغاوت کی قیادت سی وی شنموگم کر رہے ہیں، ایسے خبریں بھی موصول ہو رہی ہیں کہ ان کے گھر پر کچھ دیر میں اے آئی اے ڈی ایم کے کے اراکین اسمبلی پہنچ سکتے ہیں۔


واضح رہے کہ اے آئی اے ڈی ایم کے نو منتخب اراکین اسمبلی کی آج چنئی میں میٹنگ ہونی تھی، لیکن عین موقع پر یہ ملتوی کر دی گئی۔ پارٹی کا ایک گروپ ٹی وی کے کو کم از کم ایک سال کے لیے باہر سے حمایت دینے کے حق میں ہے۔ یہ صورتحال اس لیے اہم ہے کیونکہ ٹی وی کے ریاستی اسمبلی میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے، لیکن وہ واضح اکثریت سے دور ہے۔ تمل ناڈو کی 234 سیٹوں والی اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے 118 سیٹیں ضروری ہیں، جبکہ ٹی وی کے نے 108 سیٹیں جیتی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ ٹی وی کے نے اکیلے انتخاب لڑا تھا، اس لیے اب ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے دونوں خیموں کی پارٹیوں سے بات چیت تیز ہو گئی ہے۔ ڈی ایم کے اتحاد کی حلیف پارٹی کانگریس نے واضح طور پر ٹی وے کے کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے اور وجے کے والد پہلے ہی کانگریس کو اپنے ساتھ شامل کرنے کی بات کر چکے ہیں۔


بی جے پی اتحاد میں شامل اے آئی اے ڈی ایم کے ہی نہیں بلکہ دیگر حلیف پارٹی پی ایم کے بھی ٹی وی کے کو حمایت دینے کے لیے تیار ہے۔ رواں اسمبلی انتخاب میں پی ایم کے کو 4 سیٹوں پر کامیابی ملی ہے۔ رپورٹس کے مطابق جلد ہی پی ایم کے کے صدر امبومنی رام داس اور وجے کی ملاقات ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب وجے پہلے ہی مخلوط حکومت کے لیے اپنی رضامندی ظاہر کر چکے ہیں، جس سے چھوٹی پارٹیوں کو کابینہ میں جگہ ملنے کی امید بڑھ گئی ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔