خطے میں امن و امان کے لئے پاکستان کے ساتھ بات چیت لازمی: فاروق عبداللہ

فاروق عبداللہ نے کہا کہ مجھے آنجہانی اٹل بہاری واجپائی کے وہ ریمارکس یاد ہیں جن میں انہوں نے کہا تھا کہ "دوست تبدیل کیے جاسکتے ہیں لیکن پڑوسی نہیں"۔

فاروق عبداللہ، تصویر یو این آئی
فاروق عبداللہ، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

جموں: نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ مرکزی حکومت کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ شروع کریں، تاکہ خطے میں امن و امان کا ماحول قائم ہوسکے۔ ان باتوں کا اظہار انہوں نے جموں میں رگوناتھ بازار کے دورے کے دوران نامہ نگاروں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کیا ہے۔ دورے کے دوران انہوں نے لوگوں کے ساتھ بات کی اور مسائل و مشکلات کی بھی آگہی حاصل کی۔ اُن کے ہمراہ صوبائی صدر جموں دیوندر سنگھ رانا، سینئر لیڈران ایس ایس سلاتیہ اور سجاد شاہین بھی تھے۔

نامہ نگاروں کے سوالات کے جوا ب دیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جو لوگ اس بات کے دعوے کر رہے ہیں کہ حالات بالکل ٹھیک ہیں اور ملی ٹنسی ختم ہوگئی ہے وہ سراسر جھوٹ بول رہے ہیں، ملی ٹنسی اس وقت بھی موجود ہے اور یہی سچ ہے۔ اگر ہمیں اس کا خاتمہ کرنا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بات کریں۔

انہوں نے کہا کہ 'مجھے آنجہانی اٹل بہاری واجپائی کے وہ ریمارکس یاد ہیں جن میں انہوں نے کہا تھا کہ "دوست تبدیل کیے جاسکتے ہیں لیکن پڑوسی نہیں"۔ اس لئے میں مرکزی حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کریں اور ٹھیک اُسی طرح مسائل کا حل تلاش کریں جس طرح سے چین کے ساتھ سرحد پر فوجیوں کی واپسی کے لئے بات چیت کی گئی'۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next