یومِ جمہوریہ تشدد: جموں سے دو ملزمان گرفتار، سازش رچنے کا الزام

دہلی پولیس کی کرائم برانچ کے مطابق جموں کے رہائشی موہندر سنگھ خالصہ اور مندیپ سنگھ نے 26 جنوری کو لال قلعہ میں ہونے والے تشدد میں اہم کردار ادا کیا تھا

تصویر بشکریہ ٹوئٹر
تصویر بشکریہ ٹوئٹر
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: یومِ جمہوریہ کے موقع پر دہلی میں نکالی جانے والی کسان ٹریکٹر پریڈ کے دوران ہونے والے تشدد کے واقعہ کی تفتیش لگاتار جاری ہے۔ تشدد کے ملزمان کی دھر پکڑ کے لیے دہلی پولیس کی کرائم برانچ لگاتار چھاپہ ماری کر رہی ہے۔ دبش کے دوران کئی ملزمان گرفتار کر لیے گیے ہیں، جبکہ بقیہ ملزمان پر شکنجہ کسنے کی تیاری چل رہی ہے۔

اس ضمن میں دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے جموں سے دو ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ کے مطابق جموں کے رہائشی موہندر سنگھ خالصہ اور مندیپ سنگھ نے 26 جنوری کو لال قلعہ میں ہونے والے تشدد میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

پولیس نے بتایا کہ دونوں ملزمان جموں کے رہائشی ہیں۔ موہندر سنگھ کو یونائٹیڈ کشمیر فرنٹ کا سربراہ بتایا جا رہا ہے۔ دونوں ملزمان کو جموں و کشمیر پولیس کی مدد سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزمان کو دہلی لایا جا چکا ہے اور اب انہیں عدالت میں پیش کیا جائے گا، جہاں دہلی پولیس انہیں ریمانڈ پر لینے کی درخواست کرے گی۔

اس سے قبل دہلی پولیس نے یوم جمہوریہ پر تشدد کے دوران لال قلعہ پر تلوار لہرانے والے 29 سالہ جسپریت سنگھ کو دہلی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ دہلی پولیس اس معاملہ میں کئی لوگوں کو گرفتار کر چکی ہے اور متعدد کی تلاش ہنوز جاری ہے۔

خیال رہے کہ زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے ملک بھر کے کسانوں نے دہلی میں 26 جنوری کو ٹریکٹر پریڈ نکالی تھی۔ ریلی کے دوران ہنگامہ ہو گیا اور اسی دوران مظاہرین کا ایک گروپ لال قلعہ پہنچ گیا اور وہاں سکھوں کا مذہبی پرچم لہرا دیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next