تبلیغی جماعت معاملہ: جمعیۃ علماء ہند کی عرضی پر سماعت پھر ملتوی، اب بحث 8 اکتوبر کو

جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل پٹیشن میں گلزار احمد اعظمی مدعی بنے ہیں جس میں عدالت کی توجہ ان ڈیڑھ سو نیوز چینلوں اور اخبارات کی جانب دلائی گئی ہے جنہوں نے صحافتی اصولوں کو تار تار کیا۔

سپریم کورٹ 
سپریم کورٹ
user

پریس ریلیز

نئی دہلی: کورونا وائرس کو مرکز نظام الدین سے جوڑ کر مسلمانوں بالخصوص تبلیغی جماعت سے وابستہ لوگوں کی شبیہ کو داغدار کرنے اور ہندو-مسلم کے درمیان منافرت پھیلانے کی دانستہ سازش کرنے والے ٹی وی چینلوں اور پرنٹ میڈیاکے خلاف صدر جمعیۃ علمائے ہند مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر داخل کردہ پٹیشن پر آج چیف جسٹس آف انڈیا کی سربراہی والی تین رکنی بنچ کے روبرو سماعت عمل میں آنے والی تھی لیکن آج پھر چیف جسٹس آف انڈیا نے معاملے کی سماعت ملتوی کردی۔ اس سے قبل کی سماعت پر بھی چیف جسٹس آف انڈیا نے بغیر سماعت کیئے معاملے کی سماعت ملتوی کردی تھی۔

چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وی راما سبرامنیم نے حتمی بحث کے معاملات جس میں جمعیۃ علماء ہند کی پٹیشن بھی شامل تھی پر سماعت کیے بغیر8 اکتوبر کو اگلی تاریخ دے دی۔ حالانکہ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے بحث کر نے کے لئے سینئر ایڈوکیٹ دشینت دوے اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول موجود تھے۔

جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل پٹیشن میں گلزار احمد اعظمی مدعی بنے ہیں جس میں عدالت کی توجہ ان ڈیڑھ سو نیوز چینلوں اور اخبارات کی جانب دلائی گئی ہے جس میں انڈیا ٹی وی،زی نیوز، نیشن نیوز، ریپبلک بھارت،ریپبلک ٹی وی،سدرشن نیوز چینل اور بعض دوسرے چینل شامل ہیں جنہوں نے صحافتی اصولوں کو تار تار کرتے ہوئے مسلمانوں کی دل آزاری اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی ناپاک سازش کی تھی۔ ان پر کارروائی کرنے کی درخواست جمعیۃ علماء ہند کی عرضی میں کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ جمعیۃ علماء کے صدر مولانا سید ارشد مدنی کا موقف رہا ہے کہ سماج میں انتشار و افتراق اور نفرت پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے خواہ وہ میڈیا ہو یا تنظیم یا کوئی اور ذرائع ابلاغ ہو، اس کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔ کیوں کہ اس سے سماج میں نفرت پھیلتی ہے اور معاشرہ زہرآلود ہوجاتا ہے جس سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے اور دنیا میں ہندوستان کی شبیہ خراب ہوتی ہے۔ اسی لئے جمعیۃ علمائے ہند نے ہندوستان کی عظمت اور جمہوریت کو برقرار رکھنے کے لئے تبلیغی جماعت کے خلاف مہم چلانے والے بے لگام میڈیا پر قدغن لگانے کے لئے سپریم کورٹ میں گزشتہ 6اپریل کوعرضی دائر کی تھی اور نفرت پھیلانے والے میڈیا کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کی کوشش انصاف کے حصول تک جاری رہے گی، کیوں کہ یہ جمعیۃ علماء ہند یا مسلمان یا تبلیغی جماعت کے حق میں ہی نہیں ہوگا بلکہ پورے ملک کے حق میں بھی بہترہوگا۔

Published: 28 Sep 2020, 9:29 PM
next